ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین، دو بچے جب کہ زخمیوں میں این جی او کی تین خواتین بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے نقل مکانی کر کے بڑی تعداد میں لوگ نوشہرہ میں قائم جلوزئی کیمپ میں پناہ گزین ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق جہاں دھماکا ہوا وہاں راشن تقسیم ہو رہا تھا کہ قریب کھڑی گاڑی دھماکے سے پھٹ گئی۔
بم ڈسپوژل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں 35 کلوگرام وزنی بارود استعمال کیا گیا۔
زخمیوں کو اپنی مدد آپ کے تحت قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، متعدد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ دو افراد کی لاشیں اور سات زخمیوں کو صدر مقام پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔
پولیس کے مطابق دھماکے میں پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔
دھماکا انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ متاثرہ علاقے میں امدادی ٹیمیں پہنچ گئی ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکورٹی فورسز نے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ نوشہرہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی سماء کے مطابق دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ اس میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان