اس سے قبل ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر شائع کی گئی جس میں مسلح افراد جو اپنے آپ کو شام کے باغی کہہ رہے تھے اقوام متحدہ کی گاڑیوں کے قریب کھڑے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مبصرین اس علاقے میں شام اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر نظر رکھنے کے لیے تعینات تھے۔ عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک ٹیم کو اس علاقے کی جانب بھیج دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ مبصرین رسد پہنچانے گئے تھے جس وقت ان آبزرویشن پوسٹ 58 کے قریب روکا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ اس پوسٹ کو پچھلے ہفتے اس وقت نقصان پہنچا تھا جب اس کے قریب شامی فوج اور باغیوں میں لڑائی چھڑ گئی تھی۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔
ویڈیو پر باغیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اراکین اس وقت تک رہا نہیں کیے جائیں گے جب تک شامی فوجیں جملا گاؤں خالی نہیں کرتیں۔
دوسری جانب فری سیریئن آرمی نے اقوام متحدہ کے اراکین کو یرغمال بنائے جانے کی مذمت کی ہے۔ تنظیم کے رہنما جنرل سلیم ادریس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کے اراکین کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوششیں کریں گے۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے بھی اراکیم کے یرغمال بنائے جانے کی مذمت کی ہے۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان