Categories: مشرق وسطی

لبنان،شام سرحد پرلڑائی،جیش الحراورحزب اللہ کے 8 جنگجو ہلاک

شام اور لبنان کے درمیان واقع سرحدی علاقے میں صدر بشارالاسد کے مخالف باغی جنگجوؤں اور ان کی حامی لبنانی تنظیم حزب اللہ کے دستوں کے درمیان لڑائی میں دونوں طرف سے ہلاکتیں ہوئی ہیں اور لبنانی تنظیم کے ایک عہدے دار نے اپنے تین کارکنوں اور شامی جیش الحر کے پانچ جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
اس عہدے دار نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ باغیوں کے ساتھ لڑائی میں دولبنانی شیعہ موقع پر ہی مارے گئے اور چودہ زخمی ہوگئے۔ان میں ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا ہے۔

دوسری جنرل شامی انقلاب جنرل کمیشن نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ لبنانی حزب اللہ کے جنگجوؤں نے شام کے آٹھ سرحدی دیہات پر قبضہ کررکھا ہے،انھوں نے جب اپنے اس قبضے کو اس سے ملحقہ تین اور دیہات تک وسعت دینے کی کوشش کی تو ان کی جیش الحر سے وابستہ باغی جنگجوؤں سے جھڑپ شروع ہوگئی۔

حزب اللہ کے جنگجوؤں نے پیدل حملہ کیا تھا اور انھیں راکٹ لانچروں کی مدد حاصل تھی۔ان کے مقابلے کے لیے جیش الحر نے بھی شامی فوج سے چھینے گئے دو ٹینک طلب کر لیے۔اس کے بعد ان کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے جس میں دونوں طرف سے آٹھ جنگجو مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ حزب اللہ کے جنگجو شام کی سرحد کے دوسری جانب وادی بقاع میں موجود ہیں۔اس علاقے میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی حد بندی نہیں ہے۔اس علاقے میں حزب اللہ کے جنگجوؤں نے اہل تشیع اور اہل سنت کی مخلوط آبادی والے چار دیہات پر کنٹرول حاصل کررکھا ہے۔

سرحدی علاقے میں ان جھڑپوں سے چندے قبل ہی شامی حزب اختلاف کے اتحاد نے دمشق حکومت کی اتحادی عسکری تنظیم حزب اللہ پر شام میں بشارالاسد کی حمایت میں فوجی دراندازی کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات پر فرق پڑے گا۔

شامی قومی کونسل نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ حزب اللہ کے ارکان نے ہفتے کے روز لبنان کی سرحد کے نزدیک فوج کے علم کے باوجود تین دیہات پر حملہ کیا تھا۔صوبہ حمص میں اس کارروائی کے نتیجے میں شہریوں کی بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور سیکڑوں لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ لبنانی تنظیم شامی صدر بشارالاسد کی کھلم کھلا حمایت کررہی ہے اور وہ وقفے وقفے سے اپنے جنگجوؤں کی اکا دکا ہلاکتوں کے اعلانات کرتی رہتی ہے اور تنظیم کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے اکتوبر 2012ء میں یہ اعتراف کیا تھا کہ ان کی جماعت کے جنگجو شامی باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ انفرادی حیثیت میں ایسا کررہے ہیں۔

درایں اثناء یہ اطلاع بھی سامنے آئی ہے کہ شام کے باغی جنگجوؤں نے وسطی شہر حمص کے نزدیک سرکاری فوج کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔شامی فوج گذشتہ کئی مہینوں سے سنی اکثریتی صوبے حمص میں باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے اور اس میں ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago