جس میں 11 ہزار 250 پاکستانیوں کی زندگیاں ختم ہوئیں، 21 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ تفصیلات راولپنڈی میں چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود کی سربراہی میںانٹر ایجنسیز کے دوسرے اجلاس میں سامنے آئی۔
اجلاس میں وزارت خارجہ، پی اے آر سی، وزارت اطلاعات، وزارت داخلہ اور فاٹا سیکریٹریٹ کے نمائندے شریک ہوئے، آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں باروردی سرنگوں سے درپیش چیلنجز اور خطرات کاجائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انتہا پسندو ں کے بارودی سرنگوں کے حملوں کا قانون نافذ کرنے والے ادارے سب سے زیادہ نشانہ بنے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان