جس میں 11 ہزار 250 پاکستانیوں کی زندگیاں ختم ہوئیں، 21 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ تفصیلات راولپنڈی میں چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود کی سربراہی میںانٹر ایجنسیز کے دوسرے اجلاس میں سامنے آئی۔
اجلاس میں وزارت خارجہ، پی اے آر سی، وزارت اطلاعات، وزارت داخلہ اور فاٹا سیکریٹریٹ کے نمائندے شریک ہوئے، آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں باروردی سرنگوں سے درپیش چیلنجز اور خطرات کاجائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انتہا پسندو ں کے بارودی سرنگوں کے حملوں کا قانون نافذ کرنے والے ادارے سب سے زیادہ نشانہ بنے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید