رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے 77.7 فیصد بچے ابتدائی کلاسوں کے بعد بڑی جماعتوں میں پڑھنے سے محروم رہتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان بھر میں تیسری جماعت کے 92.2 فیصد بچے اردو یا علاقائی زبانیں جیسے سندھی یا پشتو میں کوئی کہانی نہیں پڑسکتے، جبکہ دوسری جماعت کے 78 فیصد بچے تو ایک جملہ پڑھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہے۔
اسی طرح ملک کے 58.3 فیصد نجی اور 9.6 فیصد سرکاری اسکولوں میں کمپیوٹرز لیبز موجود ہیں، جبکہ 41.6 فیصد نجی ہائی اسکولوں اور 12.9 فیصد سرکاری ہائی اسکولوں کی لائبریریوں میں طالبعلموں کیلئے کتابیں دستیاب ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 56 فیصد نجی اور 14 فیصد سرکاری اسکولوں میں طالبعلموں کیلئے پینے کی پانی مناسب سہولیات موجود نہیں، جبکہ 78 فیصد سرکاری اور 19 فیصد نجی اسکولوں میں ٹوائلٹ کی سہولت دستیاب نہیں۔
دی نیوزٹرائب
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…