عراق میں سیکیورٹی عہدیداروں اور یو این کی ترجمان الینا نبعہ نے خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتایا کہ ‘لبرٹی کیمپ’ پر حملے میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں، تاہم ان کی حتمی تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حادثے میں کئی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئی تاہم ان کی بھی حتمی تعداد کے بارے میں علم نہیں ہو سکا۔
ادھر عراقی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ‘ایرانی اپوزیشن کے سات افراد مارے گئے، جبکہ ان کے کیمپ پر حملے میں چالیس افراد زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
نوری المالکی پر حملے کا الزام
‘لبرٹی’ کیمپ کے ایک رہائشی یوسف نے ٹیلی فون پر ‘العربیہ’ سے بات کرتے ہوئے حملے کا الزام عراقی وزیر اعظم نوری المالکی پر عاید کیا ہے۔ یوسف کے بہ قول، نوری المالکی نے یہ حملہ ایرانی حکومت کے ایماء پر کیا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے مندوب مارٹن کوبلر پر بھی عراقی حکومت سے ساز باز کا الزام لگایا۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یوسف نے اپنا مکمل نام ظاہر کیا نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ لبرٹی کیمپ میں تین جگہوں پر راکٹ حملہ مقامی وقت صبح پونے چھے بجے کیا گیا سے چھے افراد ہلاک اور کیمپ میں رہائش پذیر ایران مخالف مجادہدین خلق کے تقریبا 100 کارکن زخمی ہوئے۔
ذرائع نے بتایا کہ عراقی فوج نے کیمپ کا محاصرہ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے زخمیوں کو علاج کی غرض سے ہسپتال منتقلی میں دقت پیش آ رہی ہے۔
یوسف نے مزید کہا کہ “ہم نے کئی بار عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہمیں اپنی مدد آپ کے تحت بنائے اشرف کیمپ لوٹنے کی اجازت دے تاکہ ہم عراق سے باہر جا سکیں جانے۔ لبرٹی کیمپ میں موجود سہولیات ناکافی تھیں اور کیمپ پر حملے کی صورت میں زیادہ نقصان کا باعث تھیں۔
ایجنسیاں
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…
حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام…