افغان طالبان کے ترجمان نے حال ہی میں لندن میں پاکستان، افغانستان اور برطانیہ کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے جس میں آئندہ چھ ماہ میں تصفیہ امن کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ کانفرنس اور دیگر “ہارس ٹریڈنگ” کا مقصد دونوں “اصل فریقین” کے درمیان موثر اور نتیجہ خیز مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
یہاں اصل فریقین سے طالبان کا ممکنہ طور پر مقصد امریکا اور ان کے درمیان مذاکرات ہیں کیونکہ اس سے قبل بھی وہ کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات صرف طالبان اورامریکا کے درمیان ہو سکتے ہیں۔
طالبان نے مارچ 2012 میں سیاسی قیدیوں کے تبادلے کے تناظر میں قطر میں امریکی نمائندوں سے روابط منقطع کر دیے تھے اور خلیجی ریاست میں ایک رابطہ آفس کھول لیا تھا۔
مجاہد نے مزید لکھا ہے کہ فوجی شکست کا شکار مغربی فوجیں اپنی ناکامی چھپانے کیلیے پراپیگنڈے کے طور پر اس طرح کی کانفرنس کا انعقاد کرا رہی ہیں تاکہ یہ دکھا سکیں کہ مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے۔
مجاہد نے ٹیلیوفون پر اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویب سائٹ پر شائع شدہ اس طویل آرٹیکل کے بعد طالبان جلد ہی کانفرنس سے متعلق آفیشل بیان جاری کریں گے۔
ڈان نیوز