علی اکبر صالحی نے یہ بات جرمنی میں ایک سکیورٹی کانفرنس کے دوران کہی۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے بغداد میں امریکہ کے ساتھ کئی بار دو طرفہ مذاکرات کیے ہیں۔ مذاکرات میں ہر موضوع پر بات ہو سکتی ہے۔ اگر مذاکرات کا موضوع ایران کا جوہری پروگرام ہے تو ہاں ہم اس پر بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس بار ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ دوسری جانب سے مسئلے کے حل کے لیے مربوط لائحہ عمل اختیار کیا جائے‘۔
انہوں نے امریکہ کی جانب سے مزید پابندیوں کی دھمکیوں کے حوالے سے مزید کہا کہ ’یہ دونوں متضاد باتیں ہیں کہ ایک جانب تو آپ کہیں کہ ہم ایران کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور دوسری جانب آپ دھمکیاں دیں۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے ساتھ متصادم ہیں۔ اگر امریکہ اچھی نیت کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہے تو ہم بھی اسے سنجیدگی سے لیں گے‘۔
ایران کے وزیر خارجہ کا یہ بیان امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے اس بیان کے اگلے دن سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران سنجیدہ ہو تو امریکہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
امریکی نائب صدر نے جرمنی میں ہی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایران کی قیادت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ان مذاکرات کو ہم چھپائیں گے نہیں بلکہ ہم اپنے اتحادیوں کو بھی اس سے آگاہ کریں گے۔ اگر دوسری جانب سے کوئی پیش قدمی دکھائی جاتی ہے تو مذاکرات کی دعوت موجود ہے لیکن وہ سنجیدگی پر مبنی ہونی چاہیے۔ ہم یہ مذاکرات صرف ایک مشق کے طور پر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘
اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے ایران کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کی مذاکرات کی دعوت سے بھر پور فائدہ اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ ’براہ راست مذاکرات پر آمادگی ایران کی جانب بڑھا ہوا ہاتھ ہے اور ہم ایران کی حکومت پر زور دیں گے وہ امریکہ کی اس دعوت کو رد نہ کرے بلکہ اسے قبول کرے۔ اب اس مسئلے کا سفارتی یا سیاسی حل نکالنا بہت اہم ہے‘۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ایران میں بنائے گئے لڑاکا طیارے کا افتتاح کیا جس کا نام قہر ایف تین سو تیرہ ہے اور یہ اسٹیلتھ صلاحیت رکھنے والے طیارہ ہے۔
صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ’ایران کی فوجی استعداد بڑھانے کا مقصد دوسری قوموں کا حق مارنا نہیں ہے۔ یہ توسیع پسندانہ پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ کم از کم دفاعی صلاحیت اور استعداد بڑھانے کا وہ حق ہے جو ایرانی قوم کے تحفظ کو یقینی بنانے کا انسانی طریقہ کار ہے، جو کہ ضروری ہے‘۔
ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے یہ بھی بتایا کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین ممالک امریکہ، چین، روس، فرانس ، برطانیہ اور اس کے علاوہ جرمنی کے مندوبین بھی رواں ماہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کریں گے۔
بی بی سی اردو
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید