’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق مولوی عبداللہ شہید کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی ذاتی گاڑی پر ظہر کے وقت جامع مسجد مکی جارہے تھے، مرکزی عیدگاہ سے کچھ فاصلے پر مسلح شرپسند افراد نے ان پر فائرنگ کردی جہاں وہ موقع پر شہادت سے ہمکنار ہوئے۔
مولوی عبداللہ براھویی زاہدان میں ’’بدر روڈ‘‘ پر ایک مسجد کے پیش امام تھے، امامت کے علاوہ آپ شہر کے بعض دینی مدارس و مکاتب میں اسلامی کتب کی تدریس بھی کیا کرتے تھے۔
مرحوم نے شہادت سے قبل اپنے عزیزوں کو اطلاع دی ہے کہ انہیں کئی بار دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں اور انہیں علاقہ چھوڑنے کا کہا گیاہے۔
مولوی عبداللہ شہید کا جنازہ کل سنیچر کو نمازعصر کے بعد پڑھاگیا۔ نمازجنازہ میں عام شہریوں کے علاوہ علمائے کرام اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مولانا عبدالحمید نے نماز جنازہ کی امامت کی۔
خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید نے جنازہ پڑھانے سے قبل حاضرین سے مختصر خطاب میں مذکورہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور صوبے کے سکیورٹی اور عدالتی حکام سے مطالبہ کیا جلدازجلد حملہ آوروں کے چہرے بے نقاب کردیے جائیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا دہشت گرد اور بزدل قاتلوں کو فورا گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دی جائے۔
زاہدان-سنی آن لائن
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…