مقامی پولیس کے مطابق پچیس سے تیس عسکریت پسندوں نے سرائے نورنگ کے علاقے میں جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات محکمۂ انہار کی رہائشی کالونی میں قیام پذیر پاکستانی فوج کی یونٹ کو نشانہ بنایا۔
لکی مروت کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عارف خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں اور سکیورٹی اہلکاروں مابین فائرنگ کا تبادلہ رات گئے تک جاری رہا اور اس دوران چار فوجی اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس کارروائی کے دوران بارہ عسکریت پسند بھی مارے گئے ہیں تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں ان کے صرف چار ارکان شریک تھے۔
ڈی ایس پی عارف خان کا کہنا ہے کہ فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور کسی کو اس علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ اس حملے میں چار خودکش حملہ آوروں نے حصہ لیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں ان کے دو کمانڈروں کی ڈرون حملوں میں قتل کا بدلہ ہے۔
یاد رہے کہ پچھلے سال کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے لکی مروت کے اباخیل اور تاجہ زئی دیہات میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے تھے جن میں مقامی لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ کسی قسم کا کوئی قومی لشکر یا امن کمیٹی کی طرح کی تنظیم نہ تشکیل دیں اور نہ ہی ایسے کسی گروپ کا حصہ بنیں۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…