مشرق وسطی کے بارے میں برطانوی جریدے کے تجزیہ نگار رچرڈ سپنسر کی رپورٹ کے مطابق یہ امر بھی عجیب حسن اتفاق ہے کہ بشار الاسد کے تقریر کے دوران حاضرین محفل کے نعرے بھی ان نعروں سے ملتے جلتے تھے کہ جو معمر القذافی کا خطاب سننے والے لگاتے تھے۔
اخبار کے مطابق بشار الاسد نے ‘القاعدہ’، ‘غیر ملکی دہشت گرد’، ‘مسلح مجرم’ ۔۔۔۔ جیسے وہ تمام الفاظ کا اپنی تقریر میں اعادہ کیا کہ جو کرنل قذافی نے اقتدار ختم ہونے سے پہلے اپنی تقاریر میں استعمال کئے اور پھر چند ہی دن بعد وہ انقلابیوں کے ہاتھ قتل ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق کرنل قذافی اپنے دور اقتدار میں لڑائی سے خوش تھے۔ وہ اپنے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں سے مذاکرات اور موت کو ہتھیار ڈالنے پر ترجیح دیا کرتے تھے، تاہم بشارالاسد ظاہر کر رہے ہیں کہ انہیں حالات پر پورا کنٹرول ہے۔ یہی بات ان کی تقریر اور زمینی حقائق کے تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔
بشار الاسد کے پیش کردہ منصوبے سے متعلق اخبار نے لکھا ہے کہ تقریر کے وقت شامی صدر کے ذہن میں یہ بات راسخ تھی کہ جنگجو زمینی حقائق سے متعلق ان کی پیش کردہ تصویر کو درست مان لیں گے اور فورا مذاکرات کی میز پر آ بیٹھیں گے۔ حقیقت میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ شام کے متعدد بڑے شہروں سمیت وسیع علاقے بشار الاسد کے کنڑول سے نکل چکے ہیں۔ ان کی وفادار فوجیوں کی بڑی تعداد دمشق کے داخلی دروازوں پر زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔
اخبار نے استفسار کیا کہ شامی جنگجو بشار الاسد کی پیش کردہ تجویز کیونکر قبول کریں گے کہ جب انہیں اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ شامی صدر کا جانا ٹہر گیا ہے۔ اخبار نے اپنی رپورٹ کے اختتام میں کہا ہے کہ بشار الاسد بھی دنیا کے سامنے اپنے حامیوں کے جلوس میں نمودار ہوئے بعینہ معمر قذافی اپنے ‘چاہنے’ والوں کے جلو میں آخری آخری تقاریر کیا کرتے تھے۔
العربیہ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام