سعودی وزیرخارجہ نے اتوار کو دارالحکومت ریاض میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ”عراق فرقہ وارانہ انتہا پسندی سے متعلق ایشوز کو طے کیے بغیر مستحکم نہیں ہوگا۔عراق کے استحکام کے لیے ان مسائل کا خاتمہ ضروری ہے”۔
واضح رہے کہ عراق کے مغربی صوبوں میں ہزاروں اہل سنت شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔وہ حکومت سے اہل سنت کے قائدین کی پکڑ دھکڑ اور ملک میں نافذ انسداد دہشت گردی قانون کے حکومت مخالفین کے خلاف استعمال کی مذمت کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ نوری المالکی کی حکومت اہل سنت کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ ختم کرے۔
سعودی عرب کو اہل سنت کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر تشویش لاحق ہے اور وہ اپنی حریف علاقائی قوت ایران کے عرب ممالک میں اثرورسوخ کا بھی مخالف ہے۔سعودی عرب ایران پر عراق اور شام کے معاملات میں مداخلت کے الزامات عاید کررہا ہے۔اس نے اس سے پہلے ایران پر بحرین اور یمن میں بھی مداخلت کا الزام عاید کیا تھا۔
اس نے ایران پر سعودی شیعہ اقلیت کو شاہ عبداللہ کی حکومت کے خلاف مظاہروں کی شہ دینے کا الزام بھی عاید کیا تھا لیکن ایران ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب یا اس کے ہمسایہ ممالک کے داخلی معاملات میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کررہا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام