پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں آٹھ طالبان رہنماؤں کی رہائی کی تصدیق کی گئی ہے لیکن اس میں پانچ ناموں کا ذکر کیا گیا ہے۔
پاکستان دفتر خارجہ کے بیان میں جن پانچ طالبان رہنماؤں کے نام بتائےگئے ہیں ان میں سابق گورنر ہلمند عبد الباری، سابق وزیر قانون ملا نور الدین ترابی، سابق وزیر اللہ داد طبیب، کابل کے سابق گورنر مُلا داؤد جان اور سابق گورنر میر احمد گل شامل ہیں۔
پاکستان کے وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کی امن کونسل کے مطالبے پر اب تک پاکستان چھبیس طالبان رہنماؤں کو رہا کر چکا ہے۔
افغانستان کی حکومت امن مذاکرات میں پیش رفت کے لیے ان طالبان رہنماؤں کی رہائی کا پاکستان سے مطالبہ کرتی رہی ہے۔ تاہم افغان طالبان کے اہم رہنماء مُلا عبد الغنی برادر ابھی بھی پاکستان میں زیرِ حراست ہیں۔
سنہ دو ہزار چودہ کے آخر تک نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلاء متوقع ہے اور کابل میں موجود حکومت امید باندھے ہوئے ہے کہ رہا کیے گئے طالبان رہنماء امن مذاکرات میں مفید ثابت ہوں گے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مُلا ترابی کتنے عرصے سے پاکستان میں زیرِ حراست تھے تاہم بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت ان کی صحت اچھی نہیں ہے۔
گذشتہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں افغان وفد نے پاکستانی حکام سے مُلا ترابی کی رہائی کی بات کی تھی تاہم اُس وقت رہا کیےگئے افراد میں درمیانے درجے کے طالبان کارکن شامل تھے۔ اُس وقت رہا کیے گئے اہم رہنماؤں میں صرف مشرقی افغانستان کے طالبان فوجی کمانڈر انوار الحق کا نام شامل تھا۔
بحیثیت وزیرِ قانون مُلا نورالدین ترابی طالبان حکومت کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک تھے۔
اپنے دورِ اقتدار میں وہ اس بات کے لیے معروف تھے کہ وہ کابل میں وزارتِ قانون کی عمارت کے باہر بیٹھ کر اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ گزرنے والے لوگ لباس پہننے کے قوانین کا خیال رکھیں۔
بی بی سی اردو
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…