Categories: مشرق وسطی

شام بحران کے خاتمے کیلیے بات چیت کوتیارہے: وزیر اعظم

شام کے وزیر اعظم وائل الحلقی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ملک میں گذشتہ بائیس ماہ سے جاری بحران کے خاتمے کے لیے کسی بھی امن منصوبے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
شامی وزیر اعظم نے سوموار کو پارلیمان میں ایک بیان میں کہا کہ ”حکومت قومی مصالحتی منصوبے کی حمایت کے لیے کام کررہی ہے اور وہ بحران کے مذاکرات اور پُرامن ذرائع سے حل کے لیے کسی بھی علاقائی یا بین الاقوامی اقدام کی حمایت کرے گی تاکہ شام کے داخلی امور میں غیر ملکی مداخلت سے بچا جاسکے”۔

اقوام متحدہ اورعرب لیگ کے مشترکہ ایلچی الاخضر الابراہیمی گذشتہ روز شام میں جاری بحران کے حوالے کہا تھا اس کا اب بھی سیاسی حل ممکن ہے لیکن یہ وقت کے ساتھ بہت پیچیدہ ہو گیا ہے۔
انھوں نے قاہرہ میں عرب لیگ کے ہیڈکواٹرز میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”شام میں حالات روز بروز بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، ابتری کی رفتار بہت تیز ہے لیکن جون میں جنیوا میں طے پائے امن منصوبے کے تحت شامی بحران کا حل اب بھی ممکن ہے”۔

انھوں نے کہا کہ ”اگر بحران کا جلد کوئی حل تلاش نہ کیا گیا تو شامی ریاست ختم ہوجائے گی، ملک جہنم زار میں تبدیل ہوکر ایک نیا صومالیہ بن جائے گا۔اس لیے نئے سال 2013ء میں شامی بحران کی دوسری برسی سے قبل اس کا حل تلاش کیا جانا چاہیے”۔

واضح رہے کہ جنیوا منصوبے میں جنگی بندی کے بعد نئی حکومت کی تشکیل تجویز پیش کی گئی تھی اوراس کے بعد یہ حکومت نئے صدر یا پارلیمان کے انتخاب کے لیے اقدامات کرے گی لیکن اس میں صدر بشار الاسد کے مستقبل کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا تھا۔

عالمی امن ایلچی کا صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اس منصوبے کی بنیاد پر شام میں امن عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”میں نے روس اور شام کے ساتھ اس منصوبے کے بارے میں بات چیت کی ہے اور میرے خیال میں عالمی برادری اس کو تسلیم کرلے گی”۔

تاہم انھوں نے اس منصوبے کی تفصیل نہیں بتائی لیکن شامی حزب اختلاف اس منصوبے کو مسترد کرچکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے قومی مذاکرات سے قبل صدر بشار الاسد کی رخصتی ہونی چاہیے۔

درایں اثناء روس نے شام میں موجود اپنے شہریوں کے ممکنہ انخلاء کے لیے ایک تیسرا بحری جہاز بھیج دیا ہے۔شام میں موجود روسی شہریوں کی اکثریت خواتین کی ہے جنھوں نے سرد جنگ کے زمانے میں شامی مردوں سے شادیاں کرلی تھیں۔

روس کے خبررساں اداروں کی اطلاع کے مطابق اس سے قبل روس نے گذشتہ جمعہ کو دو بحری جہاز شام کی جانب روانہ کیے تھے اور یہ تینوں جہاز نئے سال کے پہلے دس روز کے دوران شام کی بندرگاہ طرطوس پر لنگر انداز ہوں گے۔ طرطوس میں روس کا بڑا بحری فوجی اڈا قائم ہے۔
خبررساں ادارے

modiryat urdu

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

2 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago