مہلک ترین بم دھماکہ عراق کے دارالحکومت بغداد کے جنوب میں واقع قصبے مسیب ہوا۔ جس میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔
جنوبی شہر حلہ کے مصروف بازار میں بم دھماکے میں دو افراد مارے گئے۔
سال دو ہزار چھ اور دو ہزار سات کے بعد عراق میں پرُتشدد واقعات میں کمی تو آئی ہے لیکن باغیوں کی جانب سے مختلف علاقوں میں حملے معمول کی بات ہے۔
شمالی شہرکرکوک میں بھی تسلسل کے ساتھ کئی دھماکے ہوئے اور ایک دھماکہ اس وقت ہوا جب سکیورٹی فورسز کے اہلکار راکٹ کو ناکارہ بنا رہے تھے۔ اس دھماکے میں دو پولیس اہلکار ہلاک جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔کرکوک کا علاقہ حکومت اور کرد اقلیت کے مابین تنازعے کا باعث ہے۔
مشرقی صوبے دیالا میں شیعہ مسلک کے افراد کے جلوس پر حملہ ہوا جس میں دس افراد کے زخمی ہونے کے اطلاعات ہیں۔عراق میں ہونے والے حالیہ دھماکے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جو شیعہ مسلک کے افراد کے لیے مذہبی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
عراق میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد اکثر سنی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں نشانہ بن رہے ہیں۔ عراق میں حکومت کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے جس میں جنوبی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے، حکومت اور کُردوں کے مابین شمالی علاقوں میں تیل اور زمین کا تنازعات شامل ہیں۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان