’عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین‘ کے رکن نے شام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزیدکہا: شام میں جاری تبدیلیوں کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ہے؛ ایرانی حکام بالا اس بات کو مدنظر رکھیں کہ شام کا اکثر حصہ مخالفین کے قبضے میں آچکا ہے اور دنیاکے اکثر ممالک نے نئے اپوزیشن اتحاد کو شامی قوم کی قانونی نمائندہ حکومت تسلیم کیا ہے، ایک طرف بشاراسد کا اصلی حامی، روس، بھی اس بات کا اعتراف کرچکاہے کہ مسلح اپوزیشن کی کامیابی کے امکانات بہت ہیں۔ لہذا ایران مداخلت اور ثالثی کرکے مسٹر الاسد کو مستعفی ہونے کی ترغیب دیدے۔ بشاراسد کے دن گنے جاچکے ہیں، اگر ایران موجودہ حالات کے تناظر میں شام میں مزید کشت وخون اور تباہی کی راہ روک لے تو اس سے ملک کے قومی مفادات کا تحفظ ممکن ہوگا۔
جامع مسجدمکی زاہدان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: میرا خیال ہے ایران کا یہ موقف اور اقدام سب سے پہلے اللہ کی رضامندی اور دوسرے مقام پر قومی مفادات کے تحفظ کا باعث ہوگا۔ ایرانی قوم کے دمشق میں بعض مفادات ہیں، حکام کو جلدازجلد کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔
ایران کے مایہ نازسنی عالم دین نے زور دیتے ہوئے مزیدکہا: ایران کھلم کھلا بشارالاسد کی روبہ زوال حکومت کی حمایت کرتاچلا آرہا ہے؛ اگر ان حالات میں ایران کا بشارالاسد کی برطرفی میں کوئی کردار ہو تو اس اقدام کے عالم اسلام اور عرب دنیا میں مثبت نتائج نکلیں گے اور ہمارے ملک کی عزت بھی بچ سکتی ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…