Categories: مشرق وسطی

عرب ممالک فلسطینیوں کی عسکری امداد کریں: خالد مشعل

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے پولٹ بیورو کے سربراہ خالد مشعل نے عرب ممالک سے فلسطینیوں کے فوجی میدان میں معاونت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطین میں اس وقت ایک ایسے قومی سیاسی پروگرام کی ضرورت ہے جو مزاحمت کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی سمجھوتے کی منظوری کے بعد قاہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کہ وہ کئی ملکوں کی مشترکہ جدو جہد سے جنگ بندی معاہدے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ فلسطینیوں کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے فائر بندی کے بعد اگلے مرحلے میں ہم قومی وحدت اور مصالحت کا سفر شروع کریں گے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ قومی اتحاد اور مصالحت کی بنیاد مسلح مزاحمت پر ہونی چاہیے۔

حماس کے لیڈر نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ کے سلسلے میں مصر کے کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مصری انٹیلی جنس چیف اور صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے تہہ دل سے ممنون ہیں کہ انہوں نے حماس کے مطالبات اور شرائط کے مطابق جنگ بندی معاہدہ کرایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا، اسرائیل اور یورپی یونین نے خود بھی مصر ہی کی نگرانی میں امن معاہدے پر زور دیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیل تمام تر جارحیت کے باوجود غزہ کی پٹی میں مزاحمتی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنےمیں ناکام رہا ہے۔ اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ صہیونی ریاست میں فلسطینیوں کی قوت مزاحمت کو کچلنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

خالد مشعل کا کہنا رتھا کہ حملوں کا آغاز ہمارے دشمن اسرائیل نے خود کیا تھا اس لئے فلسطینیوں سے جنگ بندی میں پہل کا مطالبہ بے جا تھا۔ فلسطینی عوام اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہے تھے۔ آٹھ روزہ جارحیت کے بعد اسرائیل کو ہماری شرائط ماننا پڑی ہیں۔ یہ دشمن کی شکست اور ہماری فتح ہے۔

معاہدے کے نکات کے حوالے سے خالد مشعل نے بتایا فلسطینی مزاحمت کار اسرائیل پر راکٹ باری نہیں کریں گے اور صہیونی ریاست فلسطینیوں کے خلاف ہر قسم کی جارحیت بند کر دے گی۔

درایں اثناء فلسطین کی ایک اور عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنما رمضان شلح کا کہنا ہے کہ وہ سیز فائر سمجھوتے کی پابندی اسی وقت تک کریں گے جب تک اسرائیل اس کی پابندی کرے گا۔ اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں ہمیں جوابی کارروائی کا حق ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام فلسطینی تنظیموں نے مصری حکومت سے صہیونی جارحیت بند کیے جانے کی ضمانت لی ہے اور ہم اپنے مجاہدین کی جانب سے خود ہی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

modiryat urdu

Recent Posts

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

22 hours ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

1 week ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

2 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

2 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

3 weeks ago

اقبال اور فلسطین: ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق

دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…

4 weeks ago