ذرائع ابلاغ کے مطابق سرکاری فوج نے گزشتہ روز دمشق کے جنوب میں مہاجرین کے دو کیمپوں پر ٹینکوں سے بمباری کی ہے، اس علاقے میں فوج اور باغیوں میں شدید لڑائی جاری ہے، صوبہ حلب کے اہم قصبے مرت النعمان پر بھی سرکاری فوج نے شدید بمباری کی ہے، ترک سرحد کے قریب شامی علاقے راس العین میں باغیوں نے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کردیا جس میں 18 سرکاری فوجی ہلاک ہو گئے جبکہ باغیوں نے چیک پوسٹ پر قبضہ بھی کرلیا، پرتشدد واقعات میں18 فوجیوں سمیت مزید 50 افراد مارے گئے، شام چھوڑ کر جانے والے لوگوں کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کرگئی۔
اقوام متحدہ کے امور مہاجرین کی نمائندہ میلیسا فلیمنگ نے کہا ہے کہ ملک کے اندر بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعداد کا اندازہ لگایا جانا دشوار ہے کیونکہ وہ مسلسل متحرک رہتے ہیں اور خود کو چھپائے رکھتے ہیں۔ ادھر روسی وزیر اعظم دمتری میدیدیوف نے اپوزیشن اتحاد کی حمایت کرنے والے ممالک کی شدید مذمت کی ہے جبکہ فرانس نے اپوزیشن اتحاد کو تسلیم کرلیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار