اسپتال ذرائع نے اس بم دھماکے میں اکتیس افراد کی ہلاکت اور پچاس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ایک پولیس اہکار احمد خالف نے بتایا ہے کہ زیر تربیت فوجی بیس سے باہر نکل رہے تھے اور ان کو لینے کے لیے منی بسیں وہاں کھڑی تھیں۔ اس دوران زوردار دھماکا ہوا اور ہر طرف انسانی اعضاء بکھر گئے۔
فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش کار بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔گذشتہ ایک ہفتے کے دوران عراق میں یہ دوسرا تباہ کن حملہ ہے۔اس سے قبل اکتوبر کے آخر میں بغداد میں پے درپے بم دھماکوں کے نتیجے میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ان میں بعض شیعہ زائرین بھی شامل تھے۔
عراق سے گذشتہ سال دسمبر میں امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد سے مزاحمت کار ملک کے مختلف علاقوں میں ہر ماہ ایک یا دو بڑے بم دھماکے کرتے ہیں۔ ماضی میں ان حملوں کا القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ ”ریاست اسلامی عراق” پر الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔
بغداد
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…