’سنی آن لائن‘ کو ملنے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کو عیدالاضحی کی صبح پولیس نے ’صادقیہ‘ اور ’سعادت آباد‘ میں موجود اہل سنت کے نمازخانوں کے آس پاس گاڑیاں کھڑی کرکے نمازیوں کو نمازعید پڑھنے سے روک دیا۔
تہران میں قائم ایک سنی ویب پورٹل ’اصلاح‘ کی رپورٹ کے مطابق ’صادقیہ‘ ایریا میں سنی شہریوں کیلیے ساڑھے پانچ بجے نمازخانہ کھول دیا تھا کہ مقامی وقت کے مطابق چھ بجے پولیس نے نمازخانہ پر چھاپہ مارا۔ نمازخانہ کی کمیٹی سے بات چیت کے بعد ممبران سے وعدہ لیاگیا کہ ساڑھے آٹھ بجے تک نماز ختم ہونی چاہیے لیکن پھر فورسز نے نمازخانہ تک پہنچنے والے راستوں کو آنے جانے کے لیے بند کرکے نمازعید پر پابندی عائد کردی۔
واقعے کے بعد سینکڑوں سنی مسلمانوں کو دیگر مکانوں اور گھروں میں خفیہ طور پر نماز ادا کرنا پڑی۔ اس طرح تین سال تک تہران میں نماز عیدالفطر پر پابندی کے بعد پہلی بار نماز عیدالاضحی بھی ممنوع قرار پاگئی۔
یادرہے تہران دنیا کاواحد دارالحکومت ہے جہاں اہل سنت کو اپنی مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں آباد ہزاروں سنی مسلمان کرایے کے مکانوں میں پنج وقتہ اور جمعہ وعیدین کی نماز قائم کرتے ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان