مقامی نیوز ویب سائیٹ ’موکریان‘ کی رپورٹ کے مطابق کردستان کے سقز، مریوان، بانہ، قروہ اور موچش شہروں میں وزارت تعلیم کے مقامی عہدیداروں نے مذکورہ اساتذہ کو ’تدریس‘ کے عہدے سے تنزل دیکر ’اسسٹنٹ سکریٹری‘ کا قلمدان ان کے سپرد کیا ہے۔ وزارت تعلیم کے ذمہ داروں نے اعتراف کیاہے کہ مڈل اور ہائی سکول کے سنی اساتذہ کو محض ایک زبانی نوٹس کی تعمیل میں برطرف کیا گیا۔
’موکریان‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مذکورہ ٹیچرز میں سے ایک نے کہا: ہم نے احتجاج کیلیے صوبے میں وزارت تعلیم کے نمائندے کا دروازہ کٹھکٹایا تو انہوں نے اس حکم کی تصدیق کرتے ہوئے محروم اساتذہ کو ’مکتب قرآن‘ (کردستان میں اہل سنت کی غیرسیاسی تنظیم) سے وابستہ قرار دیتے ہوئے کہا مکتب قرآن ’اسلامی رجیم‘ کے ہوتے ہوئے ایک غیرقانونی تنظیم ہے۔
برطرف ٹیچر نے تاکید کرتے ہوئے کہا: نئے تعلیمی سال سے چند دن پہلے جب وزارت تعلیم کے عہدیداروں سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے ایسے کسی فیصلے کا انکار کیا اور اسے ’امتیازی وہتک آمیز‘ قرار دیتے ہوئے مسئلہ حل کرنے کا وعدہ دیا، لیکن جب دوبارہ رابطہ ہوا تو انہوں نے اس امتیازی سلوک کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی سکیورٹی حکام اور وزارت تعلیم کے ذمے داروں نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام