ان افراد کو ابھی رہا نہیں کیا جا رہا کیونکہ بعض قیدیوں کے ملک انہیں لینے سے انکاری ہیں اور بعض کو اپنے ملک واپس بھجوانے سے سیکیورٹی مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
گوانتانامو بے کے حراستی مرکز میں مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے تقریبا 167 افراد زیر حراست ہیں جنہیں’دہشت گردی کے خلاف جنگ’ کے دوران مختلف جگہوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ افراد گزشتہ گیارہ برسوں سے امریکا کے اس بدنام زمانہ حراستی مرکز میں پابند سلاسل ہیں۔
ان میں بڑی تعداد یمنی شہریوں کی ہے۔ گوانتانامو بے میں قید یمنی اسیروں کی اپنے وطن واپسی سے متعلق امریکا کو تشویش ہے کہ واپس جا کر یہ افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں دوبارہ ملوث ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے صدر اوباما نے سن 2010ء میں یمن کی غیر مستحکم صورتحال کے پیش نظر گوانتانامو بے سے یمنی اسیروں کی اپنے ملک منتقلی معطل کر دی تھی۔
سن 2009ء سے امریکی حکام گوانتانامو بے سے رہائی کے لئے فٹ قرار دیئے جانے والے قیدیوں کے نام صیغہ راز میں رکھنے کی پالیسی پر عمل کرتے چلے آ رہے ہیں۔ حکام کے بہ قول ایسا اس لئے کیا جاتا ہے کہ قیدی کا نام اور شہریت ظاہر ہونے کی صورت میں ان ملکوں سے معاملات طے کرنے میں مشکلات ہو سکتی ہیں جہاں ان قیدیوں کو منتقل کرنا ہوتا ہے۔
تاہم حال ہی میں واشنگٹن کے صدر مقام ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں سرکاری وکیل نے یہ موقف اخیتار کیا کہ “اب حالات بدل چکے ہیں”، اس لئے رہائی کے لئے منظور کئے جانے والے قیدیوں کے ناموں کو صیغہ راز میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گوانتانامو بے کے اسیران کو دوسرے ملکوں میں ‘ری سیٹل’ کرانے کی پالیسی کامیاب رہی ہے۔ سن 2009ء سے ابتک 28 قیدیوں کو اپنے اصل ملک منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 40 قیدیوں کو ان کے اپنے ملکوں کے انکار کے بعد دوسرے ممالک میں سیٹل کرایا جا چکا ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان