ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں تعینات شام کے قونصل جنرل عماد الاحمر اور سفارتی اتاشی محمود عبید نے صدر بشارالاسد کی حکومت سے علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
قاہرہ سے ٹیلی فون پر العربیہ ٹی وی سے خصوصی بات کرتے ہوئے عمادالاحمر نے کہا کہ شامی حکومت آزادی کے متوالے شہریوں کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کر رہی ہے۔اس صورت حال میں ان کے لیے سفارتی ذمے داریاں جاری رکھنا ناممکن ہوگیا ہے۔
مصری دارالحکومت سے صدر بشار الاسد کے خلاف اعلان بغاوت کرنے والے دوسرے سفارت کار محمود عبید نے کہا کہ وہ اسد حکومت سے الگ ہو کر شام کے انقلابیوں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔
حالیہ مہینوں کے دوران دوسرے ممالک میں متعین شام کے متعدد سفارت کاروں اور سفارتی عہدے داروں نے صدر بشار الاسد کا ساتھ چھوڑا ہے۔ ان میں بیشتر شخصیات کا تعلق ملک کی سنی اکثریت سے ہے۔
جولائی میں بغداد میں متعین شام کے سفیر نواف الفارس اپنی سفارتی ذمے داریوں کو خیرباد کہہ کر پہلے اردن اور پھر قطر چلے گئے تھے۔وہ عراق میں سفیر مقرر ہونے سے قبل مشرقی صوبہ دیر الزور میں شام کی حکمران بعث پارٹی کے سربراہ رہے تھے۔
ان کے بعد روس میں متعین شامی سفارت کار فاروق طہٰ ،متحدہ عرب امارات میں شامی سفیر عبد اللطيف الدباغ اور قبرص میں متعین ان کی اہلیہ لمیاء الحریری، لندن میں شامی سفارت خانے کے ناظم الامور خالد الایوبی اور سربیا میں متعین شامی سفارت کار بشار الحاج اپنی سفارتی ذمے داریوں سے سبکدوش ہو گئے تھے۔
لندن میں شامی سفارت خانے کے ناظم الامور خالد الایوبی نے اپنے استعفے میں لکھا تھا کہ ”وہ ایک ایسی حکومت کی نمائندگی نہیں کرسکتے جو اپنے ہی عوام کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں کر رہی ہے”۔ ان کے علاوہ اومان میں متعین سکیورٹی اتاشی محمد تحسین الفقیر منحرف ہو کر اپنی سفارتی ذمے داریوں سے سبکدوش ہو گئے تھے۔
شامی وزارت خارجہ نے ان کے منحرف ہونے کی تصدیق کی تھی اور ایک بیان میں کہا تھا کہ ”ان ملازمین نے اپنی سفارتی ذمے داریوں سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ایک عرب ملک کے دارالحکومت چلے گئے ہیں جو انھیں رقوم مہیا کر رہا اور اس طرح سفارتی عملے کی سرکاری ملازمت کو خیرباد کہنے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے”۔ بیان میں قطر کی جانب اشارہ تھا جہاں یہ شامی سفارت کار اکٹھے ہو رہے تھے۔
العربیہ.ڈاٹ نیٹ