بريوک نے اعتراف کرلياتھاکہ اس نے حکمراں جماعت کے افرادکومسلمانوں کي حمايت پربے دردي سے ہلاک کيا.
آندريبريوک کو اوسلوبم دھماکے اور سياحتي مقام پر اندھادھندفائرنگ کرکے لوگوں کوہلاک کرنے کے جرم ميں سزاسنائي گئي ہے اوريہ 5رکني بنچ کامتفقہ فيصلہ تھا.ايک قتل کي سزا سو روز سے بھي کم بنتي ہے مگرناروے کاعدالتي نظام پاکستان سے مختلف ہے.
بريوک حکمراں جماعت کے افرادکوبے دريغ قتل کرنيکے باوجود تين کمروں کي جيل ميں يہ دن گزاريگااوراسے ٹي وي کي بھي سہولت ميسرہوگي.
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان