’سنی آن لائن‘ کو ملنے والی رپورٹس کے مطابق اتوار انیس اگست دوہزار بارہ میں عید الفطر کے پر مسرت دن میں ایرانی پولیس اور حساس اداروں نے سنی مسلمانوں کے نمازخانوں کو بلاک کرکے نمازیوں کو آگے جانے نہیں دیا۔
تہران میں اہل سنت برادری کی کوئی مسجد یا عیدگاہ نہیں ہے؛ نمازی حضرات و خواتین مجبوری سے کرایے کے مکانات میں باجماعت پنج وقتہ نمازوں اور نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ تہرانی سنی برادری کی آبادی دس لاکھ کے قریب ہے۔
ایک مقامی ویب پورٹل کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی حکام نے بعض سنی ائمہ کو زبانی طورپر نماز عید قائم نہ کرنے کا حکم سنایاہے لیکن انہوں نے کوئی تحریری خط دکھانے سے گریز کیا ہے۔ یاد رہے اس سے قبل بھی ایرانی سکیورٹی حکام نے سنی مسلمانوں کو اپنی نماز عید قائم کرنے سے زبردستی منع کیاہے۔
گزشتہ ہفتہ بدھ کو مذکورہ حکم کے بعد سنی ائمہ نے ’تقریب بین المسالک‘ کے نئے چیئرمین سے رابطہ کیا تو ان کے دفتر کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ جن مکانات میں تراویح قائم ہوئی تھی صرف وہاں عید کی نماز پڑھی جاسکتی ہے، لیکن آج (اتوار) پولیس اہلکاروں نے نمازیوں کو متعلقہ مکانوں میں آنے نہیں دیا۔
یاد رہے بعض سنی مسلمان خفیہ طور پر اپنے گھروں میں نماز عید پڑھنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…