Categories: مشرق وسطی

حلب میں لڑائی جاری، دو لاکھ کی نقل مکانی

دمشق(بى بى سى) اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں جاری تشدد کے نتیجے میں شہر سے دو دن میں دو لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔
انسانی امداد کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے کی سربراہ بیرنس ویلری آموس کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کے علاوہ دیگر افراد شہر میں پھنسے افراد کو بھی امداد کی ضرورت ہے۔
شام کی سرکاری افواج نے جنگی طیاروں کی ایک ہفتے تک وقفے وقفے سے بمباری کے بعد سنیچر کو حلب پر بڑا زمینی حملہ شروع کیا تھا۔
حلب میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شہریوں کو خوراک کی کمی اور بجلی کے تعطل کا سامنا ہے۔
نامہ نگار ایئن پینل کے مطابق حکومتی فوج باغیوں پر حاوی ہو رہی ہے اور باغیوں نے شہر کی گلیوں میں گوریلا طرز کی جنگ لڑنا شروع کر دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت لڑائی کا مرکز حلب کے جنوب مغرب میں صلاح الدین کا علاقہ ہے جہاں باغی جمع تھے۔
سرکاری ٹی وی نے اتوار کی شام حلب شہر کے مناظر اور فوجیوں کے انٹرویو نشر کیے ہیں جس میں وہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے صلاح الدین علاقے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
پیر کو دمشق میں بھی شامی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے علاقے کو ’صاف‘ کر دیا ہے تاہم حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں اب بھی باغیوں کا کنٹرول ہے اور پیر کو بھی لڑائی جاری ہے۔
کارکنوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حلب کے شمال مشرقی علاقے سخور میں بھی بمباری اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور وہاں بھی حکومتی فوجیں کارروائی کر رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ اہلکار بیرنس ویلری آموس نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ کراس اور شامی ہلالِ احمر کا اندازہ ہے کہ گزشتہ دو دن کے دوران دو لاکھ افراد نے حلب چھوڑ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’تاحال یہ واضح نہیں کہ شہر میں کتنے افراد اب بھی ان علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں لڑائی جاری ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے افراد نے اپنا گھر بار چھوڑ کر سکولوں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں پناہ لے رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں تمام متحارب گروہوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں اور امدادی اداروں کو محفوظ راستہ فراہم کریں‘۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حلب سے نقل مکانی کرنے والے افراد قریبی دیہات یا پھر سرحد عبور کر کے ترکی چلے گئے ہیں۔
ادھر امریکہ کے وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کا حلب پر حملہ ان کے ’تابوت میں کیل‘ ثابت ہوگا۔ وہ مشرقِ وسطی کے پانچ روزہ دورے کے آغاز پر صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شام کا مسئلہ مزید کشیدہ ہوتا جا رہا ہے اور صدر الاسد اپنے ہی زوال کو تیز کر رہے ہیں۔.

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago