Categories: مشرق وسطی

مصر: حسنی مبارک کو عمر قید کی سزا

قاہرہ(بى بى سى) مصر پر پورے تیس برس تک حکمرانی کرنے والے سابق صدر حسنی مبارک اور انکے وزیر داخلہ حبیب العدلی پر الزام ہے کہ انہوں نے ملک میں ہوئے احتجاجوں کے دوران حکومت مخالف مظاہرین کو ہلاک کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
حسن مبارک کے علاوہ انکے دو بیٹوں اعلی اور جمال پر بھی بدعنونی کا الزام تھا۔ حالانکہ انہیں اس الزام سے بری کردیا گیا ہے لیکن انہیں دیگر الزامات میں مقدمے کا سامنہ ہے۔
قاہرہ کی ایک خصوصی عدالت میں مبارک کے خلاف دس ماہ کی سماعت کے بعد مجرم پایا گیا ہے۔
عرب ممالک میں تیونس سے شروع ہوئے حکومت مخالف اور جمہوریت کے حامی مظاہرے دھیرے – دھیرے یمن، لیبیا، شام اور دیگر ممالک میں پھیل گئے لیکن حسنی مبارک وہ پہلے سیاسی رہنما ہیں جن کے خلاف مقدمہ چلا اور سزا بھی سنائی گئی ہے۔
مبارک اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ مبارک کے خلاف اقتدار کا غلط استعمال کرنے سمیت کئی اور الزام بھی تھے لیکن انہیں بدعنوانی کے معاملات میں بری کردیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ حسنی مبارک کے چار ساتھیوں کو رہا کردیا گیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت میں جھڑپیں شروع ہوگئی۔
نامہ نگاروں کے مطابق جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سابق وزیر داخلہ حبیب العدلی کے چار ساتھی وزراء کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
جمہوریت کے حامی کارکنان ان لوگوں کو حسن مبارک کے اقتدار دوران کی پالیسیوں کو انجام دینے کا ملزم مانتے ہیں۔
قاہرہ میں عدالت کے باہر موجود بی بی سی نامہ نگار کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کا اعلان ہوتے ہی مصر میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے دوران خوشی کی لہر دوڑ گئی وہیں مبارک کے حامی اپنا سر پکڑ کر رونے لگے۔
حسنی مبارک کے خلاف چلنے والا مقدمہ گزشتہ سال اگست میں اس وقت اہمیت اختیار کر گیا جب تراسی سالہ حسنی مبارک نے دعویٰ کیا کہ وہ بہت بیمار تھے اور عدالت کے سامنے پیش نہیں ہو سکتے اس لیے وہ سٹریچر کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔
مصر کی فوجی کونسل کے سربراہ اور سابق وزیرِ دفاع فیلڈ مارشل محمد حسین تنتاوی نے کہا تھا کہ حسنی مبارک نے کبھی مظاہرین کو گولی مارنے کا حکم نہیں دیا۔
سابق مصری صدر کے خلاف مقدمے کے فیصلے کے موقعے پر قاہرہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور ہزاروں فوجیوں کو دارالحکومت کی سڑکوں اور گلیوں میں تعینات کیا گیا۔
حسنی مبارک کے خلاف فیصلے کی عدالتی کارروائی مصری ٹی وی پر براہِ راست نشر کی گئی تھی۔

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago