بیجنگ میں تعینات الجزیرہ انگلش کی نمائندہ ملیسا چان نے اپنے ویزے اور صحافتی دستاویزات کی تجدید کی درخواست دی تھی جو رد کر دی گئی۔
ملیسا چین میں سنہ دو ہزار سات سے صحافتی فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔
یہ ماضی قریب میں پہلا موقع ہے کہ چین کی جانب سےکسی غیر ملکی صحافی کے ویزے اور صحافتی دستاویزات کی تجدید نہیں کی گئی ہے۔
چینی حکام نے ملیسا چان کی جگہ کسی اور نامہ نگار کی تعیناتی کی درخواست بھی رد کر دی ہے تاہم الجزیرہ کا کہنا ہے کہ وہ چین سے رپورٹنگ کے لیے درخواست کرتا رہے گا۔
بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کے اس اقدام کو ملک میں کام کرنے والے غیر ملکی میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جائے گا۔
چین نے یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب وہ ایک دہائی کے دوران ایک مرتبہ ہی ہونے والی قیادت کی تبدیلی کے عمل کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ وقت ملک کی داخلی سیاست میں ایک حساس دور مانا جاتا ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار