’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ’صدیقی‘ اور ’فاروق اعظم‘ پبلشرز ایران کے دو ممتاز اور سرگرم ناشر ہیں جو ایرانی اہل سنت کیلیے کتابیں شائع کرواتے ہیں۔ ان کی کتابوں کی نمائش پر اس حال میں پابندی لگادی گئی ہے کہ مذکورہ ناشروں نے مقررہ وقت پر رجسٹڑیشن کروایا تھا۔
صدیقی و فاروق اعظم پبلشرز کی اکثر کتابیں سنی دینی مدارس کے نصاب میں داخل ہیں، اس لیے طلبہ کو کتب کے حصول کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔
یاد رہے صوبائی بک فیئرز میں بھی سنی پبلشرز کو سخت پابندیوں کا سامنا ہوتاہے اور بعض ناشروں کے علاوہ عام طور پرسنی پبلشرز کو کتابون کی نمائش کی اجازت نہیں دی جاتی ہے جو سنی برادری کی ثقافتی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کو شش ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار