’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ’صدیقی‘ اور ’فاروق اعظم‘ پبلشرز ایران کے دو ممتاز اور سرگرم ناشر ہیں جو ایرانی اہل سنت کیلیے کتابیں شائع کرواتے ہیں۔ ان کی کتابوں کی نمائش پر اس حال میں پابندی لگادی گئی ہے کہ مذکورہ ناشروں نے مقررہ وقت پر رجسٹڑیشن کروایا تھا۔
صدیقی و فاروق اعظم پبلشرز کی اکثر کتابیں سنی دینی مدارس کے نصاب میں داخل ہیں، اس لیے طلبہ کو کتب کے حصول کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔
یاد رہے صوبائی بک فیئرز میں بھی سنی پبلشرز کو سخت پابندیوں کا سامنا ہوتاہے اور بعض ناشروں کے علاوہ عام طور پرسنی پبلشرز کو کتابون کی نمائش کی اجازت نہیں دی جاتی ہے جو سنی برادری کی ثقافتی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کو شش ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید