لياري کے علاقہ مکينوں کے لئے گزشتہ آٹھ دنوں سے جاري پوليس آپريشن کے بعد آج ايک معمول کا دن تھا. صبح صبح بچے طويل ناغہ کے بعد تعليم کا سلسلہ جوڑنے اسکول گئے تو دوسري جانب صبح کے اوقات ميں کھلنے والے چائے کے ہوٹل اور اخبارات کے اسٹالز پر خريداروں کا رش رہا.
گزشتہ شب پوليس کي جانب سے لياري آپريشن 48 گھنٹوں کيلئے روکنے کے اعلان کے بعد لياري کے متاثرہ علاقوں ميں معمولات زندگي بحال ہونا شروع ہوگئي ہيں اور سڑکوں پر ٹريفک بھي معمول کے مطابق ہے.دوکان داروں کا کہنا ہے کہ آٹھ دنوں سے جاري آپريشن ميں انہيں شديد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا.
لياري ميں سي آئي ڈي پوليس نے ايف سي اور سندھ ريزرو پوليس کے ہمراہ آٹھ روز تک آپريشن کيا . آپريشن کے دوران علاقہ ميں کاروبار زندگي مکمل طور مفلوج رہي . اس دوران علاقے ميں موبائل سروس بند ہوگئي تھي جسے آج بحال کرديا گيا جبکہ آپريشن کے دوران فائرنگ سے علاقے ميں موجود پي ايم ٹيز تباہ ہوگئے تھے جن کا مرمتي کام جاري ہے اور بجلي کي بحالي شروع کردي گئي ہے.
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان