لياري کے علاقہ مکينوں کے لئے گزشتہ آٹھ دنوں سے جاري پوليس آپريشن کے بعد آج ايک معمول کا دن تھا. صبح صبح بچے طويل ناغہ کے بعد تعليم کا سلسلہ جوڑنے اسکول گئے تو دوسري جانب صبح کے اوقات ميں کھلنے والے چائے کے ہوٹل اور اخبارات کے اسٹالز پر خريداروں کا رش رہا.
گزشتہ شب پوليس کي جانب سے لياري آپريشن 48 گھنٹوں کيلئے روکنے کے اعلان کے بعد لياري کے متاثرہ علاقوں ميں معمولات زندگي بحال ہونا شروع ہوگئي ہيں اور سڑکوں پر ٹريفک بھي معمول کے مطابق ہے.دوکان داروں کا کہنا ہے کہ آٹھ دنوں سے جاري آپريشن ميں انہيں شديد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا.
لياري ميں سي آئي ڈي پوليس نے ايف سي اور سندھ ريزرو پوليس کے ہمراہ آٹھ روز تک آپريشن کيا . آپريشن کے دوران علاقہ ميں کاروبار زندگي مکمل طور مفلوج رہي . اس دوران علاقے ميں موبائل سروس بند ہوگئي تھي جسے آج بحال کرديا گيا جبکہ آپريشن کے دوران فائرنگ سے علاقے ميں موجود پي ايم ٹيز تباہ ہوگئے تھے جن کا مرمتي کام جاري ہے اور بجلي کي بحالي شروع کردي گئي ہے.
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید