- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

کابل اور دیگر شہروں میں طالبان کے منظم حملے

كابل(ايجنسياں) افغانستان کے دارالحکومت کابل اور ملک کے دیگر علاقوں میں طالبان نے منظم حملے کیے ہیں۔ دارالحکومت کابل میں کم از کم سات دھماکے سنے گئے ہیں اور کابل کے سفارتی علاقے کی جانب سے فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں۔
طالبان کے ایک ترجمان کے مطابق حملہ آور سفارت خانوں، نیٹو کے صدر دفتر اور کابل کے مغرب میں واقع پارلیمان کی عمارت پر حملے کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں چوبیس افراد زخمی اور بارہ عسكريت پسند مارے گئے ہیں۔ کابل میں مسلسل دھماکوں اور گولیوں کے چلنے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے صوبہ لوگر اور پکتیا میں بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کے علاوہ جلال آباد میں خودکش بم دھماکوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
نیٹو نے کہا ہے کہ دارالحکومت کابل میں سات مقامات پر حملے ہوئے ہیں۔
کابل کے مرکز میں سفارتی علاقے میں کم از کم سات دھماکوں اور گولیوں کے چلنے کی آوازیں سنی گئیں۔
ایک پارلیمانی ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پارلیمان اور روسی سفارت خانے پر راکٹ داغے گئے ہیں۔
کابل میں واقع پارلیمنٹ کے قریب بھی دھماکے ہوئے ہیں۔ کابل میں روس کے سفارتخانے پر بھی راکٹ داغے گئے ہیں اور جرمن سفارتخانے سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
امریکی سفارتخانے نے ایک بیان میں سفارتخانے کے قریب حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ’سفارتخانے کو بند کردیا گیا ہے اور تمام عملہ محفوظ ہے۔‘
عینی شاہدین نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ برطانوی سفارتکاروں کے مکانوں پر بھی گرینیڈ سے حملے کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کابل میں تعمیر کیا گیا نیا کابل سٹار ہوٹل بھی آگ کی لپیٹ میں ہے۔

دیگر شہروں میں حملے
بی بی سی کے کابل میں نامہ نگار بلال سروری کے مطابق مشرقی شہر جلال آباد میں خودکش حملے کی اطلاع ہے۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آوروں نے جلال آباد ہوائی اڈے پر حملہ کیا تھا۔
جلال آباد میں اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے خوراک کے ایک اہلکار عبدالہادی نے بی بی سی کو بتایا ’امریکی فضائی اڈے پر حملے ہو رہے ہیں۔ زوردار دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہیں اور ہمیں بنکرز میں پناہ لینی پڑی۔‘
صوبہ لوگر کے شہر پلِ عالم میں پولیس کا کہنا ہے کہ عسكريت پسندوں نے سرکاری عمارت پر قبضہ کر لیا ہے اور دائرنگ کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ صوبہ پکتیا کے شہر گردیز میں بھی طالبان نے عمارت پر قبضہ کیا ہے جہاں پر عسكريت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ ہو رہی ہے۔

پاکستانی خواتین ارکان پارلیمان

رکن قومی اسمبلی بیگم شہناز وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں افغانستان کے سرکاری دورے پر گئی ہوئیں خواتین ارکان پارلیمنٹ کے وفد میں شامل دونیا عزیز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وفد افغان پارلیمنٹ پر حملہ ہونے سے کچھ دیر پہلے ہی پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر کے ساتھ ملاقات کرکے نکلا تھا۔
اُنہوں نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان کے سفیر کی طرف سے پارلیمانی وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا تھا جہاں پر اس حملے کی اطلاع ملی ہے۔
دونیا عزیز کا کہنا ہے کہ وہ اور وفد کے دیگر ارکان اس وقت پاکستانی سفارت خانے میں موجود ہیں اور وفد کے ارکان کو ہدایات دی گئی ہیں کہ جب تک کابل میں حالات بہتر نہ ہوں اُس وقت تک وہ سفارت خانے میں ہی رہیں۔
دونیا عزیز کے مطابق وفد کے ارکان کو کابل میں ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے۔