الیکشن کمیشن کے سربراہ فاروق سلطان کے مطابق جو امیدوارنااہل قرار دیے گئے ہیں وہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ فاروق سلطان نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ جانچ پڑتال کے بعد صدارت کے لیے 23 میں سے دس امیدواروں کو سردست نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ ان میں کم از کم تین امیدواروں کو ٹاپ تھری امیدوار قرار دیا جا رہا تھا۔ امیدوار بننے کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ہر امیدوار کو اپنے کاغذات کے ساتھ پندرہ مصری صوبوں سے تیس ہزار حامیوں کے دستخط حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ یہی شرط ایک امیدوار عمر سلیمان کی نااہلی کی وجہ بھی ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جن امیدواروں کو انتخابی عمل میں شریک ہونے سے روک دیا گیا ہے، ان میں اخوان المسلمون کے فنانسر اور چیف اسٹریٹیجسٹ خیرت الشاطر، معزول صدر حسنی مبارک کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ عمر سلیمان اور سخت اسلامی عقیدے کے حامی حازم ابو اسماعیل شامل ہیں۔
سلفی عقیدے کے امیدوار حازم ابو اسماعیل کے وکیل نزار غراب نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مصر میں ایک اور بڑا بحران پیدا ہونے جا رہا ہے۔ جمعے کے روز ابو اسماعیل کے حامیوں نے الیکشن کمیشن کے دفتر کا خاصی دیر محاصرہ بھی کیے رکھا۔ محاصرے کے دوران الیکشن کمیشن کے معمول کے کاموں کو تعطلی کا شکار ہونا پڑا تھا۔ ابو اسماعیل نے فیس بک پر لکھا ہے کہ کمیشن نے قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کی ہے۔
اخوان المسلمون کے امیدوار خیرت الشاطر کے ترجمان مراد محمد علی کا کہنا ہے کہ الشاطر کی جانب سے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر نظرثانی کی اپیل دائر کردی جائے گی۔ ترجمان کے مطابق ان کی تنظیم اپنا امیداوار کھڑا کرنے کے حق سے دستبردار نہیں ہو گی۔ مصر کے صدارتی انتخابی عمل میں اخوان المسلمون نے الشاطر کے متبادل امیدوار کے کاغذات بھی جمع کروا رکھے ہیں۔
اسی طرح حسنی مبارک کے آخری ایام کے نائب صدر عمر سلیمان کے اہم مشیر اور ترجمان حسین کمال کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل یقینی طور پر دائر کی جائے گی۔ حسین کمال کا یہ بھی کہنا تھا کہ نامزدگی کے حصول کے لیے قانون کا راستہ اپنایا جائے گا۔ اخوان المسلمون کے صدارتی الیکشن کے نامزد امیدوارخیرت الشاطر نے عمر سلیمان کے انتخابی عمل میں شریک ہونے کو ان افراد کے جذبوں کی تذلیل کے مترادف قرار دیا تھا جنہوں نے مبارک کے آمرانہ دور کے دوران فعال جدوجہد میں شرکت کی تھی۔
انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد موجودہ حکمرن عسکری کونسل نئے منتخب صدر کو تمام اختیارات پہلی جولائی کو منتقل کر دے گی۔ مصر میں صدر کا عہدہ، گیارہ فروری سن 2011 میں عوامی احتجاجات کے شروع ہونے کے بعد حسنی مبارک کی معزولی کے بعد سے خالی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…