اسلام آباد(العربیہ ڈاٹ نیٹ) پاکستان کے وزير داخلہ عبدالرحمان ملک نے رقبے کے اعتبار سب سے بڑے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ناراض بلوچ رہ نماٶں کے خلاف درج مقدمات واپس لينے کا اعلان کیا ہے۔
وزير داخلہ نے يہ اعلان جمعرات کو اسلام آباد میں آغاز حقوق بلوچستان کے حوالے سے منعقدہ سرکاری اجلاس کے بعد ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے کيا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت جلاوطن حربيارمری اور براہمداغ بگٹی سميت تمام ناراض بلوچ ليڈرشپ کے خلاف دائر مقدمات واپس لے لے گی۔ انھوں نے بلوچ رہ نماٶں کو پیش کش کی کہ ”وہ پاکستان واپس آئيں، ميں خود ان کا استقبال کروں گا”۔ انھوں نے قومی سیاست دانوں اور بلوچ قیادت پر زور دیا کہ وہ بلوچستان کے حوالے سے کل جماعتی کانفرنس ميں شرکت کرے۔ پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشرہونے والے بیان کے مطابق وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک نے غیر ملکی عناصر کو بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا ذمے دار قرار دیا۔
انھوں نے بلوچ لیڈروں پر زوردیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے صوبے کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔انھوں نے کہا کہ اب صوبے میں تعینات فرنٹیر کور کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کسی بھی کارروائی کے آغاز سے قبل متعلقہ ضلعی رابطہ افسر ڈی سی او سے اجازت نامہ لینا ہوگا۔
وزیرداخلہ نے انکشاف کیا کہ ان کی لندن میں حربيار مری سے ملاقات ہوئی تھی۔تاہم انھوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔عبدالرحمان ملک نے کہا کہ بلوچستان حکومت درخواست کرے تو وہ سابق صدر جنرل پرويز مشرف کے خلاف اکبر بگٹی قتل کیس میں ريڈ نوٹس جاری کروا ديں گے۔
انھوں نے بتایا کہ صوبے سے تعلق رکھنے والے پندرہ ہزار افراد کو سرکاری محکموں میں بھرتی کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں وزیر اعظم اور صدر کے دفتر کی جانب سے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے بلوچ نوجوانوں کے ليے پندرہ ہزار انٹرن شپ کا اعلان کيا ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ کہ صوبہ بلوچستان سے صرف بیالیس افرادلاپتا ہيں لیکن لاپتا افراد کی تعداد کے بارے ميں پراپيگنڈا کيا جا رہا ہے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والی جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ جمیل اکبر بگٹی نے وزیر داخلہ کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستان میں انتقاماً مخالفین پر مقدمات درج کرائے جاتے ہیں۔ انھوں نے وزیر داخلہ کے بیانات کو پرانے اور حکومت کے غیر مخلصانہ حربے قرار دیا ہے۔
حکومت پاکستان نے ناراض بلوچ لیڈروں کے خلاف مقدمات واپس لینے کا اعلان امریکی کانگریس میں بلوچستان کے حوالے سے حال ہی میں پیش کردہ ایک قرارداد کے بعد کیا ہے۔سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایک فوجی کارروائی میں قتل شدہ زیرک بلوچ سیاستدان نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی اور حربیار مری نے اس قرارداد کی حمایت کا اظہار کیا ہے.
ان دونوں اور دوسرے جلاوطن بلوچ لیڈروں نے امریکا سے کھلم کھلا بلوچستان کی آزادی کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے اوران کے حالیہ بیانات پاکستانی آئین کے تحت بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود صوبے میں محدود پیمانے پر جاری بغاوت کی تحریک اور شورش پر قابو پانے کے لیے حکومت نے ناراض بلوچوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی حزب اختلاف ری پبلکن پارٹی کے ایک رکن ڈانا روہرابیکر نے اپنے ساتھی دو ارکان کی حمایت سے ایوان نمائندگان میں گذشتہ ہفتے ایک قرارداد متعارف کرائی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے حق خود ارادیت دیا جائے۔ پاکستان کے وزیر اعظم سيد يوسف رضا گيلانی اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں نے بلوچستان کی صورت حال کے حوالے سے امريکی کانگریس میں پیش کردہ اس قرارداد کی مذمت کی ہے اور اسے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔