- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

افغانستان: ایساف کی مختلف چھاؤنیوں پر حملے

كابل(ڈوئچے ویلے) افغانستان میں قرآن سوزی کے واقعے کے بعد شروع ہونے والے فسادات میں دو امریکی فوجیوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی مشتعل افراد نے فرانس، ناروے اور امریکی فوج کے مختلف مراکز پر حملے بھی کیے ہیں۔
افغان صوبے ننگر ہار کے ایک ضلعی گورنر محمد حسن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی (AFP) کو بتایا کہ ان کے صوبے میں امریکی فوج کے خوگیانی بیس پر ایک افغان فوجی نے اپنے ہتھیار سے فائر کر کے دو امریکی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بیس سے باہر مشتعل افغانی مظاہرین فوجی مرکز تک پہنچنے کی کوشش میں تھے۔ مغربی دفاعی اتحاد کی افغانستان میں متعین انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹینس فورس (ISAF) نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ ایساف کی جانب سے ہلاک شدگان کی قومیت واضح نہیں کی گئی۔
افغانستان میں قرآن کی بےحرمتی کے واقعے کے عام ہونے کے بعد مشتعل افغانی باشندوں نے فریاب صوبے کے مقام میمنا میں واقع ناروے کے فوجی اڈے پر بھی دھاوا بولا اور اس میں ایک ناروے کا فوجی معمولی زخمی بھی ہوا۔ اسی طرح لغمان صوبے میں امریکی فوجیوں کے بیس کو بھی ہزاروں افغانیوں نے اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔ افغان مظاہرین نے امریکی فوجی بیس پر پتھراؤ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ کابل کے مشرق میں کپیسا میں قائم فرانسیسی فوجیوں کے بیس پر بھی تقریباً دو ہزار افغانیوں نے چڑھائی کی۔ کپیسا میں افغان پولیس کی کارروائی میں دو مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
افغانستان میں بڑے امریکی فوجی بیس بگرام میں قرآن سوزی کے واقعے کے بعد کی صورت حال پر امریکی صدر باراک اوباما نے معذرت پیش کی ہے۔ اس مناسبت سے امریکی صدر نے ایک معذرت نامہ افغان صدر کو ارسال کیا ہے۔ اس میں باراک اوباما نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ وہ تہہ دل سے افغان عوام سے معذرت کرتے ہیں۔ امریکی صدر نے مستقبل میں ایسا واقعہ نہ ہونے کے علاوہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا وعدہ بھی کیا۔ یہ خط کابل میں امریکی سفیر ریان کروکر کے توسط سے افغان صدر کو پیش کیا گیا ہے۔ کرزئی کے مطابق بگرام بیس پر ایک امریکی نے اس واقعے کا غلطی سے ارتکاب کیا تھا۔
افغان صدر نے اپنی عوام کو پرامن رہنے کی تلقین کی ہے لیکن ابھی تک اس اپیل کا کوئی اثر سامنے نہیں آ یا ہے۔ تین ایام سے جاری فسادات میں چودہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب دس برسوں سے مزاحمت کرنے والے انتہاپسند طالبان افغانیوں کو غیر ملکی فوجیوں پر حملہ کی ترغیب دے رہے ہیں۔ طالبان کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ بیان میں ایسے مظاہرین میں شرکت کرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے۔