مصری سیاست دان ڈاکٹر الفتوح پر نامعلوم افراد نے حملہ اس وقت کیا جب وہ ضلع المنوفیہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے بعد قاہرہ واپس آ رہے تھے۔ اخبار “الیوم السابع” کے آن لائن ایشن کے مطابق ڈاکٹر الفتوح جمعرات کی شام المنوفیہ سے ایک سیاہ رنگ کی کار میں قاہرہ واپس آ رہے تھے کہ راستے میں ایک کار نے اسے ٹکر مار دی۔
ٹکرانے والی کار سے تین مسلح نقاب پوش افراد اترے اور انہوں نے ڈاکٹر الفتوح کے ڈرائیور کو بندوق کی نوک پر کار سے نیچے اتارا۔ تینوں مسلح افراد ڈراٗٗئیور پر پل پڑے اور اسے بندوق کے بٹ مار مار کر شدید زخمی کر دیا۔ ڈاکٹر الفتوح ڈرائیور کو بچانے کے لیے نیچے اترے تو نقاب پوشوں نے ہوائی فائرنگ کی اور ان پر بھی وحشیانہ تشدد شروع کر دیا۔ ان کے سر میں بندوق کے بٹ لگنے سے شدید زخم آئے۔
درایں اثنا ڈاکٹر ابو الفتوح کے میڈیا ایڈوائزر ڈاکٹر علی البھنساوی نے ایک نجی نیوز چینل “النیل” کو بتایا کہ مسلح نقاب پوشوں نے ڈاکٹر الفتوح کی گاڑی کو قاہرہ کی حدود میں سڑک پر روکا۔ انہیں گاڑی سے اتارنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
البھنساوی نے ڈاکٹر الفتوح پر فائرنگ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے انہیں بندوق کے بٹ مار کر شدید زخمی کیا۔ حملہ آوروں نے ان کے سر میں ضربیں لگائی ہیں جس سے ان کا دماغ متاثر ہوا ہے۔ واقعے کے بعد حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر بھی قبضہ کر لیا، تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس واقعے میں کون لوگ ملوث ہیں۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید