واشنگٹن(ايجنسياں) امریکی صدر باراک اوبامہ کی پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کی پالیسی سابق صدر جارج بش سے زیادہ بدترین ہے۔
یہ بات برطانوی روزنامے گارڈین کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون 2004ءمیں جارج بش کے عہد میں گوانتاناموبے جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصدیق ہونے کے بعد اس کا سلسلہ اوبامہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی جاری ہے، تاہم اس حوالے سے اوبامہ انتظامیہ نے اپنا غیر مقبول میمو تیار کیا ہے، جو محکمہ انصاف کے افسران نے لکھا، جس میں ٹارگٹ کلنگ کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ٹارگٹ کلنگ میں ایسے افراد کو قتل کیا جاتا ہے جو محاذ جنگ سے دور ہے، جنھیں میزائل، بموں اور کمانڈر آپریشنز کے ذریعے ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوبامہ انتظامیہ کی ٹارگٹ کلنگ پالیسی سے گزشتہ 3 برس میں صرف پاکستان میں ہی 22 سو افراد قتل کئے جاچکے ہیں، جبکہ یمن یا صومالیہ کے حوالے سے تاحال اعدادوشمار دستیاب نہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ بیشتر واقعات میں امریکی صدر نے خود لوگوں کے قتل کی اجازت دی جیسا کہ ان کے پیشرو بش بھی کرتے رہے اور اوبامہ کے سوا کوئی امریکی صدر ایسا نہیں گزرا جو افراد کے خفیہ قتل کو سیکیورٹی مقاصد بنائے بیٹھا ہو۔
رپورٹ کے مطابق اوبامہ دور میں تشدد اور ٹارگٹ کلنگ زیادہ عام ہوگئی ہے اور 3 جنوری 2011ءکو متعارف کرائی گئی امریکی سیکیورٹی پالیسی میں تمام تر انسانی حقوق کی ضمانت دینے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ صدر کی قتل مہم جاری ہے، اور امریکہ دنیا بھر میں مسلح ڈرون کے مستقل ٹھکانے قائم کررہا ہے۔