- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

بلوچستان کے ممتاز عالم دین مولانا محمدیوسف حسین پور سے گفتگو

نوٹ: شیخ الحدیث مولانا محمدیوسف حسین پور ’’شورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان‘‘ کے جنرل سیکرٹری اور ممتاز دینی ادارہ ’’عین العلوم‘‘ گشت کے صدر اور شیخ الحدیث ہیں جو ایرانی بلوچستان کے شہر سراوان کے مضافات میں واقع ہے۔
ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ 1950ء میں اعلی تعلیم کیلیے پاکستان تشریف لے گئے جہاں آپ نے کل چھ سال قیام فرمایا۔ آپ نے تین سال تک دارالعلوم ٹنڈو اللہ یار میں تعلیم حاصل کی۔
اسی بارے میں آپ فرماتے ہیں: ’’اس وقت (1952ء میں) مولانا بدرعالم میرٹھی مدرسے کے ناظم تھے اور مولانا محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ دو برس تک مدرسے کے مدیر رہے۔ جب مولانا میرٹھی مدینہ منورہ ہجرت کرگئے اور بعض وجوہات کی بناپر مدرسہ بندہوا تو ہمیں مجبورا ’’ملتان ‘‘ جانا پڑا۔ میں نے دورہ حدیث ملتان میں مکمل کیا اور پھر مولانا بنوری رحمہ اللہ کی معیت میں کراچی آیا۔ کراچی میں جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں ’’تخصص فی الحدیث النبوی‘‘ کرکے مجھے مولانا محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ سے مزید فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔‘‘

مولانا محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ کے مایہ ناز شاگردِرشید ایرانی انقلاب (1979ء) کے بعد مولانا عبدالعزیز ملازادہ رحمہ اللہ جو آئین ساز مجلس کے سرگرم رکن تھے کے ساتھ تھے اور اس انٹرویو میں ان دنوں کی کافی خوشگوار اور قابل ذکر یادوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
ایرانی بلوچستان کے ممتاز عالم دین نے سہ ماہی ’’ندائے اسلام‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بلوچستان کی اسلامی شخصیات اور بعض دیگر اہم ایشوز پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔

ایرانی بلوچستان میں اہل سنت کے پیشوا اور سب سے موثر شخصیت مرحوم مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ کی شخصیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: آپ رح ایک باعمل عالم دین اور درویش صفت انسان تھے۔ روحانی لحاظ سے آپ انتہائی بلند مقامات تک پہنچے تھے، اس کے ساتھ ساتھ آپ میدان سیاست کے بھی شہسوار تھے۔ حقیقت میں مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ راتوں کے عابد اور دنوں کے غازی تھے۔ آپ واقعی مردِخدا تھے۔

اپنی رفاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: مولانا انتہائی شفیق اور نرم دل تھے اور میرے ساتھ بہت شفقت کا معاملہ فرماتے۔ اگرچہ میں اس کے لائق نہیں تھا مگر آپ ہمیشہ محبت و شفقت کا معاملہ فرماتے۔ حتی کہ انہوں نے اپنے صاحبزادہ شہید مولانا عبدالملک کو سبق پڑھنے کیلیے میرے مدرسے میں داخل کرایا۔ ہمارے درمیان بہت ہی اعتماد پایا جاتا تھا۔

ایرانی آئین کے آرٹیکل بارہ کی ڈرافٹنگ کے بارے میں اظہارخیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا: جب اس آرٹیکل کی تنظیم کی باری آئی تو مولانا عبدالعزیز اور آیت اللہ مکارم شیرازی کے درمیان سخت بحث ہوئی اور انہوں نے دیر تک مباحثہ کیا۔ قانون ساز مجلس کے ارکان کا خیال تھا ایران کی سنی برادری کل آبادی کی صرف دوفیصد ہے اور اس کا کوئی حق نہیں ہے،حالانکہ سنیوں کی تعداد ایران کی کل آبادی کی تقریبا بیس فیصد تھی۔ قانون ساز مجلس کے ستر ارکان سے صرف ہم دو سنی تھے۔
سپیکر آیت اللہ منتظری مرحوم تھے مگر اکثر آیت اللہ بہشتی سپیکر کا کام کرتے۔ جس دن آرٹیکل بارہ کا مسودہ پیش کیاگیا تو مسٹربہشتی نے چالاکی کا مظاہری کرتے ہوئے اس طرح عمل کیا کہ سب نے یہ تاثر لیا آیت اللہ منتظری نے میٹنگ کی صدارت کی ہے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ مولانا عبدالعزیز کی جانب سے انہیں کسی تنقید کا سامنا کرنا نہ پڑے اور آیت اللہ منتظری مسودے کو پاس کرنے والا شمار ہو۔

مسودے کی تائید کے بعد مولانا نے مجھے حکم دیا کہ سب کے سامنے آیت اللہ منتظری اور بہشتی کو مخاطب کروں اور یوں کہوں کہ اس آرٹیکل سے ایران کی سنی برادری کی دل آزاری ہوتی ہے۔ میں نے مولانا عبدالعزیز کا پیغام ان تک پہنچایا اور پھر مولانا نے احتجاجا اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔

اس کے بعد ہم ’’قم‘‘ چلے گئے۔ اس زمانے میں آیت اللہ خمینی قم میں مقیم تھے۔ آیت اللہ خمینی سے ہماری خصوصی ملاقات ہوئی؛ مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان کو مخاطب کرکے کہا: ’’آیت اللہ خمینی! یہ آپ اور یہ آپ کی اسمبلی! میں واپس بلوچستان جارہاہوں۔‘‘ آیت اللہ خمینی نے فورا مولانا کی ڈاڑھی پر ہاتھ رکھ کر کہا: ’’اگر آپ ایسا کریں تو آپ کی واپسی سے وہاں ایک شورش بپا ہوگی اور بہت سارے لوگ قتل ہوجائیں گے۔ آخرت میں اس کی ذمہ داری کس پر آئے گی؟ مجھ پر یا آپ پر۔آپ بلوچستان نہ جائیں میں یہ مسئلہ حل کردوں گا۔‘‘

سابق خطیب جامع مسجد مکی زاہدان اور بانی دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ نے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کو کن وجوہات کی بناپر اپنا جانشین مقرر فرمایا؟ اس سوال کے جواب میں مولانا حسین پور نے کہا: یہ مولانا عبدالعزیز کی ذہانت و فراست تھی کہ انہوں نے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی صلاحیت و استعداد کو بھانپ لیا تھا اور ان کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ حضرت شیخ الاسلام پوری طرح مولانا عبدالعزیز کی خدمت میں تھے اور اپنی بے پناہ صلاحیتوں کی بدولت ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے والے شخص مولانا عبدالحمید ہی ہیں۔ انہوں نے مولانا عبدالعزیز کے بہت سارے منصوبوں کو جو ادھورے رہ گئے تھے بخوبی پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ جب مولانا عبدالعزیز مرحوم اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے تو اس وقت ہمیں امید نہ تھی کہ کوئی شخص ان کی جگہ پر کرے اور ان کے فقدان کا خلا محسوس نہ ہو۔ مولانا عبدالعزیز کے صاحبزادے مولانا عبدالملک شہید (جنہیں کراچی میں شہیدکیا گیا)بھی ممتاز مقام رکھتے تھے مگر آپ نے اپنے بیٹے کو جانشین متعین نہیں فرمایا۔ دراصل مولانا عبدالعزیز کا شیخ الاسلام پر مکمل اعتماد اور بھروسہ تھا۔
ہمیں بھی یوں محسوس ہوا کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا مرحوم کے منصوبوں کو مزید آگے بڑھائیں گے اور مستقبل میں خطے کی دینی ترقی میں دن بہ دن اضافہ ہوگا۔ لیکن میں واضح طور پر کہنا چاہوں گا کہ ہمیں ہرگز توقع نہ تھی کہ حضرت شیخ الاسلام اس قدر بڑے پیمانے پر اور قابل تحسین انداز میں کامیابی حاصل کریں گے کہ ایک دن انہیں ’’شیخ الاسلام‘‘ کا اعزاز حاصل ہوجائے گا۔ آپ اپنی خداد صلاحیتوں کی برکت سے آج کے مقام تک پہنچے ہیں کہ عوام و خواص آپ کے گرویدہ ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام شریعت و طریقت دونوں میدانوں کے شہسوار ہیں اور آپ کو قرآن پاک اور دیگر روحانی اعمال سے بیحد شغف ہے۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

ایران کے سب سے بڑے اور ممتاز دینی و تعلیمی ادارہ ’’دارالعلوم زاہدان‘‘ کے ماضی کی بات کرتے ہوئے مولانا محمدیوسف حسین پور نے کہا: ان سالوں میں اس ادارے کی سرگرمیاں محدود تھیں اور خاص رونق وکامیابی نظر نہیں آتی۔ میں نے مولانا عبدالعزیز کو مشورہ دیا تاکہ ادارے کے تعلیمی و ادارتی نظام میں تبدیلی لائی جائے اور اس کام کیلیے جوان علمائے کرام کی خدمات حاصل کی جائیں۔ میں نے تجویز دی کہ یہ مہم مولانا عبدالحمید کو سونپ دی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مولانا عبدالعزیز کی حیات میں حضرت شیخ الاسلام دارالعلوم کے مہتمم بن گئے۔ چنانچہ حضرت شیخ الاسلام کی انتھک محنتوں کی برکت سے دارالعلوم زاہدان نے دن دگنی رات چوگنی ترقی حاصل کی اور ملک کے ممتازترین دینی ادارہ بن گیا۔

بلوچی زبان کی حفاظت و پاسداری کے حوالے سے شیخ الحدیث مولانا محمدیوسف حسین پور دامت برکاتہم کا کہنا تھا: جس زمانے میں بندہ پاکستان میں زیرتعلیم تھا تو بلوچی زبان کی اہمیت کا احساس ہوا۔ وہاں میری نظر سے بعض کتابیں گزریں جو بلوچی زبان میں تھیں مگر سندھی رسم الخط میں لکھی ہوئی تھیں۔ بلوچی ماہنامہ ’’سوغات‘‘ کے مدیر
مولانا خیرمحمد ندوی نے کراچی میں قابل قدر کوششیں کیں۔

بعض تعلیم یافتہ افراد کی کوشش ہے کہ بلوچی زبان کی رسم الخط لاتینی ہو۔ لیکن میرے خیال میں بلوچی زبان فارسی اور عربی جیسی زبانوں سے عجین ہوچکی ہے اور ان کا وجود ناقابل انکار ہے۔ جو حضرات اس سلسلے میں کام کررہے ہیں، میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں، انہیں خیال رکھنا چاہیے کہ جہد مسلسل اور ہوشیاری سے کام لیں اور نامانوس اور مجہول الفاظ پر زور دینے کے بجائے عوام میں معروف اصطلاحات کا استعمال کریں تو بہتر ہے۔
دوسری اہم بات یہ کہ مثلا ث، ص اور ظ جیسے حروف فارسی زبان میں نہیں ہیں لیکن جو کلمات ان حروف پر مشتمل ہیں تو وہ اپنی اصل شکل میں فارسی یا اردو زبان میں آج بھی موجود ہیں، کوئی ’’یعقوب لیث‘‘ کو ’’لیس‘‘ نہیں لکھتا۔ صفحہ کو ’’سفہہ‘‘ نہیں لکھاجاتا۔ بلوچی میں بھی ایسا ہونا چاہیے۔ بلاشک ہمارا تلفظ مختلف ہے لیکن لکھنے میں الفاظ کو ان کی اصلی شکل میں لکھنا چاہیے۔