- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

طالبان امریکا کےدشمن نہیں،جوبائیڈن

واشنگٹن(ايجنسياں) امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے دعوی کیا ہے کہ طالبان امریکا کے دشمن ہیں اور نہ ہی واشنگٹن یا اسلام آباد کو افغانستان میں اس کی حکومت سے کوئی مسئلہ ہے۔
ان کا یہ بیان نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکا کے اس مؤقف کے بالکل برعکس آیا ہے جس میں انہوں نے طالبان کو اپنا اہم دشمن قرار دیا تھا۔
امریکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے ایک بیان بھی ایسا نہیں دیا جس میں کہا گیا ہو کہ طالبان امریکا کے لیے خطرہ ہیں، امریکا نے افغانستان میں طالبان کے بجائے القاعدہ پر حملہ کیا تھا۔
جوبائیڈن نے کہا کہ طالبان کو دشمن سمجھ کر مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں، افغان جنگجو صرف اس صورت میں خطرہ ہوسکتے ہیں جب وہ القاعدہ کو امریکا پر حملہ کرنے کی اجازت دیں،طالبان القاعدہ کو پناہ نہیں دیتے تو افغانستان پر حملے کی نوبت ہی نہ آتی۔
انہوں نے کہا کہ طالبان افغانستان میں امریکا سے تعاون کرنے والی حکومت کا تختہ الٹنے کی طاقت رکھتے ہیں اور یہی واشنگٹن کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی فرصت میں القاعدہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے طالبان کا زور توڑنا لازمی ہے اور دوسرا اس خدشہ کے پیش نظر کہ کہیں طالبان موجودہ حکومت کا تختہ نہ الٹ دیں ان کے خلاف دباؤ بڑھایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب یہ کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ طالبان کو سیاسی دھارے یا درست سمت میں موڑنے کے لیے مفاہمتی کوششیں بھی کی جائیں اور یہ سلسلہ بھی جاری ہے تاکہ وہ القاعدہ یا اس جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ اپنے روابط ختم کرلیں جو امریکی مفاد اور امریکی اتحادیوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے افغانستان پر فوج کشی اس لیے نہیں کی تھی کہ وہاں طالبان کی حکومت تھی بلکہ امریکا کا افغانستان میں فوجیں بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ وہاں پر روپوش القاعدہ نے امریکا کو نقصان پہنچایا تھا اور اس کی سلامتی کو چیلنج کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کا خاتمہ امریکہ کا مطمع نظر نہیں، اب جب کہ القاعدہ کا افغانستان میں زور توڑ دیا گیا ہے تو مفاہمت کی راہ نکالنے کے لیے امریکی صدر نے طالبان کو صلح کا پیغام دیا ہے۔
جوبائیڈن کے مطابق امریکا اور افغان حکومت افغانستان میں مصالحتی کوششوں میں مصروف ہیں،ہماری کوشش ہے کہ وہ مسلح عناصر جو ہتھیار پھینک دیں ان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے زیرقیادت کی جانے والی مفاہمتی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور یہ ہماری افغانستان کے لیے طویل المدتی مفاہمتی کوششوں کا بھی حصہ ہے تاکہ افغانستان ایک پرامن ملک بن جائے۔