کابل(خبررساں ادارے) امریکہ اور طالبان کے درمیان زمینی جھڑپوں کے بعد اب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بھی جنگ شروع ہوگئی ہے۔
امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ کے مطابق حکام نے ایساف کو 140 الفاظ کے پیغامات کی جنگ میں آگے رہنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سفارت خانے پرحملے نے واضح کیا ہے کہ ہمیں طالبان کے پروپگینڈہ پر قابو پانا ہوگا۔ان کے بقول طالبان کسی نیوز ریلیز سے قبل ہی ٹویٹر پر اپنا موقف بیان کر دیتے ہیں۔
اخبار کے مطابق ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ ٹویٹر کی جنگ کون جیت رہا ہے، تاہم فالورز کی تعداد کو دیکھا جائے تو @isafmedia آگے ہے، جس کے فالورز کی تعداد 18 ہزار ہے، جبکہ طالبان کے اکاﺅنٹ @alemarahweb کو 6 ہزار افراد کا ساتھ حاصل ہے۔
اخبار کے مطابق مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے عسکریت پسندوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوششوں کے باوجود وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جارحانہ حکمت عملی پر کام کررہے ہیں۔
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اپنے ٹویٹر پیغامات میں غیر ملکی فوجیوں کو حملہ آور اور افغان فورسز کو کٹھ پتلی یا بزدل قرار دیتے ہیں۔وہ گاڑیوں کو تباہ کرکے اسے ٹینک قرار دیتے ہیں اور میڈیا ان کے پیغامات پر یہ خبر چلا بھی دیتا ہے۔
مقامی وعالمی میڈیاکی جانب سے طالبان کی خبروں کوبلاتحقیق چلائے جانے کے امیرکی الزام کے متعلق سوشل اورآن لائن میڈیاماہرین کاکہناہے کہ جنگ میں ہرفریق کی جانب سے خودکو برتراورمخالف کو کم تردکھانے کی خواہش میڈیاکوابہام کاشکار کرتی ہے،لیکن باقاعدہ افواج کی جانب سے اپنی حمایت میں مبالغہ امیزخبروں کا اجراء میڈیاکو مجبورکرتاہے کہ وہ متبادل آراء کو بھی اہمیت دے۔