خیال رہے کہ بدھ کے روز شدت پسند یہودی آبادکاروں نے مقبوضہ بیت المقدس کے مغرب میں ایک جامع مسجد میں گھس کر اسے آگ لگا دی تھی جس کے نتیجے میں مسجد کے ساتھ اس میں موجود قرآن پاک کے نسخے اور احادیث مبارکہ کی کتب بھی جل کرخاکستر ہو گئی تھیں۔
القدس کی عوامی کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “فلسطین میں اسرائیلی حکومتوں کی توسیع پسندی نے انتہا پسند یہودیوں کو مسلمان کی عبادت گاہوں اورمقدس مقامات پر حملوں کا موقع فراہم کیا ہے۔ شہرمیں انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں مسجد کی شہادت پر ہم یہودیوں سے زیادہ اسرائیلی حکومت کو اس قابل مذمت اور افسوسناک واقعے کا ذمہ دارسمجھتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کے حوالے سے جو پالیسی بناتی ہےیہودی آبادکار اس پرعمل کرتے ہیں۔ مساجد کو نذرآتش کرنے کا واقعہ یہودیوں کے ہاتھوں نہیں بلکہ انتہا پسند وزیراعظم نیتن یاھو کی حکومت کی منظم سازش ہے۔ صہیونی حکومت نے یہودی دہشت گردوں اور انسانیت دشمنوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے جووہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی صورت میں اپنے مکروہ رویے کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
القدس کی کمیٹی نے فلسطینی شہریوں پر زور دیا کہ وہ صبرسے کام لیں تاہم اپنی مقدس عبادت گاہوں اور مساجد کی خود حفاظت کریں۔ مساجد کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں تاکہ انتہا پسندوں کو اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کا موقع نہ مل سکے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان