اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے ایک پرہجوم چوک میں کرسمس کی شاپنگ میں مصروف افراد پر فائرنگ کی، دستی بم پھینکے اور پھر خود کو گولی مار لی۔
موقع پر ہلاک ہونے والوں میں پندرہ اور سترہ سالہ دو لڑکے اور ایک پچھہتر سالہ خاتون شامل تھیں جبکہ اٹھارہ ماہ کی ایک بچی نے ہسپتال میں دم توڑا۔
بیلجیئم پولیس کے مطابق حملہ آور کا نام نورڈین امرانی ہے اور پولیس کے پاس اس تینتیس سالہ شخص کے بارے میں پہلے بھی اسلحہ رکھنے کے سلسلے میں معلومات ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق امرانی کو ستمبر سنہ 2008 میں اسلحہ اور منشیات رکھنے کے جرم میں اٹھاون ماہ کے لیے جیل بھیجا گیا تھا۔ حکام نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ امرانی جیل میں رہ چکا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے یہ کارروائی تنہا انجام دی اور یہ دہشتگردی کی کارروائی نہیں۔
بلیجیئن وزیراعظم الیو ڈی روپو نے اس حملے کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سانحے کو بیان کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پورا ملک متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان