اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے ایک پرہجوم چوک میں کرسمس کی شاپنگ میں مصروف افراد پر فائرنگ کی، دستی بم پھینکے اور پھر خود کو گولی مار لی۔
موقع پر ہلاک ہونے والوں میں پندرہ اور سترہ سالہ دو لڑکے اور ایک پچھہتر سالہ خاتون شامل تھیں جبکہ اٹھارہ ماہ کی ایک بچی نے ہسپتال میں دم توڑا۔
بیلجیئم پولیس کے مطابق حملہ آور کا نام نورڈین امرانی ہے اور پولیس کے پاس اس تینتیس سالہ شخص کے بارے میں پہلے بھی اسلحہ رکھنے کے سلسلے میں معلومات ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق امرانی کو ستمبر سنہ 2008 میں اسلحہ اور منشیات رکھنے کے جرم میں اٹھاون ماہ کے لیے جیل بھیجا گیا تھا۔ حکام نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ امرانی جیل میں رہ چکا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے یہ کارروائی تنہا انجام دی اور یہ دہشتگردی کی کارروائی نہیں۔
بلیجیئن وزیراعظم الیو ڈی روپو نے اس حملے کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سانحے کو بیان کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پورا ملک متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…