مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہارغزہ میں سابق اسیران کے ایک وفد سےملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ صہیونی جیلوں سے رہائی پانےوالوں کو بہتر معیار زندگی فراہم کرنا اور جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینیوں کی رہائی کے اقدامات کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹنے والے قوم کے ہیرو اور آزادی کے مجاہد ہیں۔ ان کی خدمات اور قربانیوں کو فلسطینی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔
اس موقع پر وزیر برائے اموراسیران ڈاکٹر عطاء اللہ ابو السبح، اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے مرکزی رہ نما اور سابق وزیرخارجہ ڈاکٹر محمود الزھار، ڈاکٹرخلیل حیہ، نزارعوض اللہ اور دیگرسرکاری اور سیاسی شخصیات بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھیں۔
وزیراعظم نے غزہ پہنچنے والےاسیران میں سے 39 کے ایک گروپ کو حکومت کے اعلان کے مطابق 2000 ڈالرز فی خاندان عطیات بھی دیے اور سابق اسیران کو صہیونی عقوبت خانوں میں صبرو ثبات کا مظاہرہ کرنے پر ان میں شیلڈز بھی تقسیم کیں۔
حکومتی وفد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سابق اسیران نے اپنے ایام اسیری کے واقعات بھی سنائےاور بتایا کہ انہیں صہیونی دشمنوں کی جانب سے کس کس طرح کی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار