Categories: پاکستان

امریکہ کو شمالی وزیرستان میں یکطرفہ کارروائی سے گریز کی تنبیہ

اسلام آباد(خبررساں ادارے) پاکستان کی فوجی قیادت نے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ کارروائی کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ ’’ایسا کرنے سے پہلے امریکی 10 بار سوچیں گے‘‘۔
ان خیالات کا اظہار فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے قومی سلامتی کےاُمور پر منگل کی شام جی ایج کیو میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں برائے دفاع کے اراکین کے لیے منعقدہ ایک خصوصی اجلاس میں کیا۔
اپنی نوعیت کے اس پہلے اجلاس میں شریک اراکین پارلیمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان پر یکطرفہ امریکی فوجی کارروائی کی صورت میں پاکستان کے ردعمل کے بارے میں جنرل کیانی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن یہ یاد دہانی ضرور کرائی کہ ’’پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور کسی صورت اس کا موازنہ عراق یا افغانستان سے نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
اجلاس میں شریک سینیٹر جاوید اشرف قاضی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل کیانی امریکہ کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے ذریعے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔’’اُنھوں نے بتایا کہ ایسے رابطوں کا مقصد خفیہ معلومات کا حصول ہے بالکل اُسی طرح جیسے امریکی سی آئی اے اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسی MI-6 کرتی ہیں۔‘‘
سینیٹر جاوید اشرف قاضی کے بقول فوج کے سربراہ نے اراکین پارلیمان کو بتایا کہ ’’امریکہ کو ایک قربانی کے بکرے کی تلاش ہے تاکہ وہ افغانستان میں طالبان کو شکست دینے میں اپنی ناکامیوں کا الزام کسی اور پر پھینک سکے۔‘‘
مزید برآں جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے امریکیوں کو بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان کے حالات اور اپنی فوج کی صلاحیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ کسی دباؤ میں آکر فوجی آپریشن شروع نہیں کریں گے۔ ’’اگر کوئی مجھے قائل کر لے کے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی سے مسئلہ حل ہو جائے گا تو میں کل ہی ایسا کرنے کو تیار ہوں۔‘‘   
اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کو قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف مزید کارروائیوں کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے بجائے افغانستان میں صورت حال مستحکم کرنے پر توجہ دینی چاہیئے کیوں کہ ’’مسئلہ افغانستان میں ہے نا کہ پاکستان میں‘‘۔
اس ضمن میں بریفنگ کے دوران شرکا کو بتایا گیا کہ 49 ممالک کی افواج کی گزشتہ 10 سالوں سے افغانستان میں موجودگی کے باوجود وہاں طالبان عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل اشفاق ندیم نے طالبان کی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں نے مشرقی افغان صوبوں کُنڑ اور نورستان میں محفوظ پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں، جنھیں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں فوجی اہداف اور دیہاتوں پر مہلک حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں بریفنگ میں جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ امریکہ کو بتایا جا چکا ہے کہ پاکستان کو فوجی امداد کی ضرورت نہیں جس پر واشنگٹن سے ٹیلی فون کر کے اُن سے پوچھا گیا تھا کہ آیا وہ اس بارے میں سنجیدہ ہیں۔ ’’میرا جواب تھا ہم جو کہتے ہیں اُس پر ثابت قدم رہتے ہیں۔‘‘
پاکستانی فوج کے سربراہ نے اراکین پارلیمان کو بتایا کہ کیری لوگر بل کے تحت اب تک پاکستان کو 1.5 ارب ڈالر کا محض 20 فیصد وصول ہوا ہے۔

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

8 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago