Categories: مشرق وسطی

شام: حزبِ مخالف کے رہنماء قتل، مظاہرے جاری

دمشق(خبررساں ادارے) شام میں حزبِ اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی علاقے قامشلی میں حزبِ مخالف کے اہم رہنماء مشعل التمو کو ان کی رہائش گاہ میں گھس کر نامعلوم مسلح افراد نے قتل کر دیا ہے۔
حزبِ اختلاف کے اراکین کا کہنا ہے کہ چار مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ امریکہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعہ کو مشعل التمو کا قتل اور حزبِ اختلاف کے ایک اور رہنماء ریاض سیف کو زدو کوب کئےجانے کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ شامی حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔
امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے صحافیوں کو بتایا یہ ریاستی ہتھکنڈوں کے استعمال میں کھلا اضافہ ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ دوسروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے۔
مشعل التمو شام کے صدر بشار الاسد پر کھلے عام تنقید کرتے تھے جبکہ کردوں کی مضبوط سیاسی جماعتیں بھی ان کی جانب سے تنقید کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار کرتی تھیں۔ مشعل التمو کے گھر پر فائرنگ کے واقعہ میں ان کا بیٹا اور ان کے ایک ساتھی زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا۔ حزبِ مخالف کے مقتول رہنماء کردش فیوچر پارٹی کے رکن تھے اور انہیں حال ہی میں دو برس جیل کاٹنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔
جمعہ کی نماز کے بعد مختلف مقامات پر حکومت کے خلاف کیے جانیوالے احتجاج میں آٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ ہلاکتیں حمص کے وسط، دمشق کے مضافات اور لبنانی سرحد کے قریب واقع شہر زبادانی میں ہوئی ہیں۔
مشعل التمو شام میں بننے والی قومی کونسل کی ایگزیٹو کمیٹی کے رکن بھی تھے۔ یہ کونسل حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش میں بنائی گئی ہے۔ یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے۔
مشعل التمو شام کے صدر بشارالاسد پر کھلے عام تنقید کرتے تھے جبکہ کردوں کی مضبوط سیاسی جماعتیں بھی ان کی جانب سے تنقید کیے جانے پر ناراضگی کا اظہار کرتی تھیں۔ قامشلی میں مشعل التمو کی ہلاکت کی خبر کے بعد مشتعل افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے آزادی کے نعرے لگائے۔
گزشتہ اپریل کے ماہ میں صدر بشار الاسد نے ملک کے مشرقی علاقوں میں بسنے والے ہزاروں کردوں کو شام کی شہریت دی تھی جن کے پاس کسی بھی ملک کی شہریت نہیں تھی۔ صدر کی جانب سے شہریت دیا جانا اپنی حکومت کے خلاف مخالفت پر قابو پانے کی ایک کوشش تھی۔

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago