شام میں پھیلتے ہوئے تشدد کے واقعات پرتین ماہ سے زائد عرصے سے جاری تعطل اور خاموشی کے بعد سلامتی کونسل نے بدھ کو ایک صدارتی بیان جاری کیا ہے۔ بیان جاری کرنے کے لیے کونسل کے سارے کے سارے 15 ارکان کی متفقہ توثیق لازم ہے، تاہم اِسے ایک مکمل قرارداد جتنا مؤثر نہیں سمجھتا جاتا۔
شام کے ہمسایہ اور ایک قریبی اتحادی ملک لبنان نے بیان کو روکنے کی کوشش نہیں کی، تاہم اُس کے متن میں شامل نہیں رہا۔ یہ معاملہ ایسے میں سامنے آیا ہے جب شام کی فوج نے اپنا ظالمانہ ریاستی تشدد جاری رکھا ہے اور اُس کے ٹینک اور فوج حماہ کےشورش زدہ شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔
انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وسطی چوک میں ٹینکوں کے داخل ہوتے ہی زوردار دھماکے ہوئے، جہاں احتجاجی مظاہرین کی طرف سے بشار الاسد کے استعفے کے مطالبے ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ اتوار سے اب تک شام میں 130 سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جب حکومت نے ریاستی تشدد میں اضافہ کیا تھا۔ زیادہ تر ہلاکتیں حماہ شہر میں ہوئیں ہیں۔
داریں اثناء شام کے حکومتی میڈیا نے بتایا ہے کہ ملک کی پیپلز اسمبلی کا اتوار کو اجلاس ہوگا، جِس میں شہریوں کے مفادات اور ملک سے متعلق امور پر بحث کی جائے گی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…