تشدد کے حالیہ واقعات اس وقت شروع ہوئے جب دو افراد نے ٹریفک سگنل پر کھڑے ایک ٹرک کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا اور اس کے بعد قریب موجود لوگوں پر چاقوں سے حملہ کر کے مزید6 افراد کو ہلاک کر دیا۔
چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس واقعہ میں ایک حملہ آور بھی ہلاک ہو گیا ہے۔چین کے سرکاری خبر رساں ادارے’’ ژنہوا ‘‘ کے مطابق اس سے پہلے ایک دھماکے میں تین افراد ہلاک ہو گئے جب کہ پولیس نے فائرنگ کر کے چار مشتبہ افراد کو ہلاک کر دیا۔
واضح رہے کہ سینکیانگ میں مسلم آبادی اقلیت میں ہے اور یہاں پر شدید نسلی فسادات بھی ہو چکے ہیں۔ ایک مقامی اہلکار کے مطابق حملہ کرنے والے دونوں افراد اوغر تھے۔سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے ٹریفک سگنل پر کھڑے ٹرک کو اغواء کیا اور اس کے ڈرائیور کو ہلاک کرنے کے بعد ٹرک کو قریب میں کھڑے افراد پر چڑھا دیا اور اس کے بعد ٹرک سے اتر کر لوگوں پر حملے کرنا شروع کر دیے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اس موقع پر ہجوم نے حملہ آوروں پر دھاو بول دیا اور ان میں سے ایک کو ہلاک اور ایک کو پکڑ لیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی’’ژنہوا ‘‘ کے مطابق حملہ دو دھماکوں کے بعد ہوا ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان