حماہ شہر کے رہائشی ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے “رائیٹرز” کو بتایا کہ بدر اہسپتال میں 51 زخمی لائے گئے ہیں۔ اہسپتال میں خون کی شدت قلت ہے۔ انہوں نے تصدیق کی ٹینکوں پر سوار سرکاری فوج نے الحورانی اہسپتال کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
عینی شاہدوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح حماہ شہر پر کئے جانے والے حملے سے پہلے تقریبا ایک ماہ تک شہر میں ہونے والے بشار الاسد مخالف مظاہروں کی وجہ سے شامی فوج کے کڑے محاصرے میں رہا ہے۔
ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے کو حماہ سے ٹیلی فون پر بتایا کہ شہر پر چاروں جانب سے ٹینکوں کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔ ٹیلی فون کال کے دوران پس منظر میں خود کار ہتھیاروں کے ذریعے فائرنگ کی آوازیں مسلسل آتی رہیں۔
بہ قول عینی شاہد شامی فوج خودکار بھاری ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر رہی ہے اور انہوں نے شہر کے داخلی راستوں پر شہریوں کی جانب سے قائم کردہ چوکیوں پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان