حماہ شہر کے رہائشی ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے “رائیٹرز” کو بتایا کہ بدر اہسپتال میں 51 زخمی لائے گئے ہیں۔ اہسپتال میں خون کی شدت قلت ہے۔ انہوں نے تصدیق کی ٹینکوں پر سوار سرکاری فوج نے الحورانی اہسپتال کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
عینی شاہدوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح حماہ شہر پر کئے جانے والے حملے سے پہلے تقریبا ایک ماہ تک شہر میں ہونے والے بشار الاسد مخالف مظاہروں کی وجہ سے شامی فوج کے کڑے محاصرے میں رہا ہے۔
ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے کو حماہ سے ٹیلی فون پر بتایا کہ شہر پر چاروں جانب سے ٹینکوں کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔ ٹیلی فون کال کے دوران پس منظر میں خود کار ہتھیاروں کے ذریعے فائرنگ کی آوازیں مسلسل آتی رہیں۔
بہ قول عینی شاہد شامی فوج خودکار بھاری ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر رہی ہے اور انہوں نے شہر کے داخلی راستوں پر شہریوں کی جانب سے قائم کردہ چوکیوں پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید