- سنی آن لائن - http://sunnionline.us/urdu -

بلوچستان کا ہاٹ ایشو کیا ہے؟

صدرآصف علی زرداری خود بلوچ ہیں۔ لیکن پاکستان کے سب سے زیادہ محروم صوبہ سے تعلق رکھنے کے باوجود انہیں اپنے صوبے کی محرومیاں دور کرنے سے دلچسپی نظر نہیں آتی۔ لہٰذا انہوں نے وزیراعظم کو صوبہ کا دورہ کرنے روانہ کردیا لیکن بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتیں وزیراعظم کے دورے کو بے معنی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو جب یہ احساس ہوتا ہے کہ بلوچستان کے حالات قابوسے باہر ہوتے جارہے ہیں۔ توحالات کو قابو میں کرنے کے لیے سرسری دورہ کرلیا جاتا ہے۔لیکن ان کا دورہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کی اندرونی خلفشار کو دور کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ لہٰذا آئینی لحاظ سے طاقت ور اور عملی لحاظ سے انتہائی کمزور وزیراعظم کا دورہ پارٹی کے مسائل حل کرنے میں بھی کارگر نظر نہیں آتا۔
وزیراعظم کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف کا دورہ بلوچستان کے مسائل کی حل کی کوئی نوید نہ لایا۔ البتہ ان کی آمد سے قبل پروٹوکول کے نام پر تمام مرکزی شاہراہوں کو بند کردیا گیا یوں عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کا سبب بنا۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کیانی کے اس بیان کو بلوچستان کی قوم پرست قوتوں اور وفاق کی سیاست کرنے والی تمام جماعتوں نے مسترد کردیا کہ صوبے سے فوج نکال لی جائے گی اور ہم مل کر ملک کا دفاع کریں گے۔
قوم پرست راہ نماوں کا کہنا ہے کہ 63برس سے ایسی ہی باتیں کرکے قومی کاروائیاں کی جارہی ہیں، یہاں کی سیاہی خشک نہیں ہوتی کہ لوگوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ جیسے اس دفعہ جنرل کیانی کا جہاز اڑا بھی نہ تھا کہ سوئی سے مزید پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔وفاق کی سیاست کرنے والے حاصل کا کہنا ہے کہ آج کے بلوچستان کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آپ کہاں سے فوج نکالیں اور کہاں سے نہیں…. آج کا ایشو تویہ ہے کہ بلوچستان کے عوام چاہتے ہیں کہ مسنح شدہ لاشیں نہ آئیں، لوگ اٹھائے نہ جائیں اور جواٹھالیے گئے ہیں انہیں عدالت میں پیش کیاجائے۔ ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے اور عدالت میں ثبوت پیش کریں۔دیکھا جائے تو مطالبہ کچھ غلط تو نہیں…. عام لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں اصل کردار فرنٹیر کانسٹیلبری یعنی ایف سی کا ہے۔
آرمی چیف اگر یہ کہتے ہیں کہ ”جو کردار سوئی میں فوج کا ہے وہ ہم ایف سی کو دے رہے ہیں“ تو فوج تو ہے ہی صرف سوئی میں باقی جگہ تو ایف سی ہی کام کررہی ہے اور وہاں لوگ مررہے ہیں۔ غائب ہورہے ہیں اوربوری میں بند مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں۔
خروٹ آباد کے واقعہ میں ایف سی اور ساتھ پولیس کا کردار کیسا تھا۔اس میں دورائے نہیں ہیں۔خود بلوچستان کی حکومت سپریم کورٹ کو باقاعدہ لکھ کر بتاتی ہے کہ صوبے بھر میں ایف سی کاروائیاں کرتی ہے۔انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، لاپتا سیاسی کارکنوں کا اغوا اور دیگر تمام نوعیت کے الزامات بھی ایف سی پر ہیں۔ لیکن بلوچستان کو دنیا کا خطرناک ترین مقام بنانے میں امریکا‘ بھارت اور افغانستان کی کوشیش بھی کم نہیں…. لیکن حکومتی دعوئے کی تصدیق کے لیے ثبوت درکار نہیں۔ اگر نہیں تو الزام صوبائی حکومت بھی لگاچکی جب سپریم کورٹ میں اس نے کہا کہ ایف سی ہمارے اختیار میں نہیں….بلوچستان کے قوم پرست راہ نما اور وفاق کی سیاست کرنے والے مینگل اور بزنجو نے حکومت کی اس تجویز کو بھی مسترد کردیا ہے کہ قبائیلی جرگے کے ذریعے ناراض بلوچوں سے مذاکرات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ قبائیلی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ لہٰذا ایسے سیاسی طریقے سے ہی حل کیاجائے۔
چار سال قبل جب پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تھی تب بھی بلوچستان کے مسئلہ کے حل کے لیے لشکری رئیسانی اور ڈاکتر بابر اعوان پر مشتمل دورکنی کمیٹی بنائی گئی تھی۔ جس سے کوئی مثبت نتائج حاصل نہیں کیے جاسکے۔لہٰذا ضروری ہے کہ براہ راست قوم پرست راہ نماوں سے ملاقات کی جائے اور قوم پرست راہ نماوں کا مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے پہلا مطالبہ لاپتا افراد کی بازیابی ہے۔ لہذا یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ بلوچستان کا آج کا اہم ترین ایشو مسنح شدہ لاشیں اور لاپتا افرادہیں۔

(بہ شکریہ اداریہ جسارت)