شام کی انسانی حقوق کی تنظیم کے سربراہ کورابی کے مطابق ہراک میں فوج کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے 9 شہریوں میں 3 ڈاکٹرز، ایک ڈینٹسٹ اور ایک 11 سالہ لڑکی بھی شامل ہیں۔
کورابی کا کہنا ہے اس ہفتے حکومت مخالف مطاہروں کو روکنے کیلئے ہراک میں ٹینکوں کو تعینات کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی وکیل رازان زیتونہ کا کہنا ہے کہ شام کے علاقے راستان میں حکومت مخالف مطاہروں کو روکنے کیلئے فوج تعینات کی گئی تھی اور فوج نے گزشتہ روز آپریشن میں شیلنگ سے 41 شہری ہلاک ہوگئے۔ ان ہلاک ہونیوالوں میں سے 5 افراد کو راستان میں ہی دفن کردیا گیا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام