شام کی انسانی حقوق کی تنظیم کے سربراہ کورابی کے مطابق ہراک میں فوج کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے 9 شہریوں میں 3 ڈاکٹرز، ایک ڈینٹسٹ اور ایک 11 سالہ لڑکی بھی شامل ہیں۔
کورابی کا کہنا ہے اس ہفتے حکومت مخالف مطاہروں کو روکنے کیلئے ہراک میں ٹینکوں کو تعینات کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی وکیل رازان زیتونہ کا کہنا ہے کہ شام کے علاقے راستان میں حکومت مخالف مطاہروں کو روکنے کیلئے فوج تعینات کی گئی تھی اور فوج نے گزشتہ روز آپریشن میں شیلنگ سے 41 شہری ہلاک ہوگئے۔ ان ہلاک ہونیوالوں میں سے 5 افراد کو راستان میں ہی دفن کردیا گیا۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید