عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت دمشق کے شمال میں واقع ان شہریوں میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی میں سکیورٹی فورسز کو ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کی مدد حاصل ہے۔
اتوار کو سکیورٹی فورسز نے ان دونوں شہروں پر حملہ کیا ہے، یہ شہر حالیہ ہفتوں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے سب بڑے گڑھ حمص کے نزدیک واقع ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے ان شہروں کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور ان کا رابط ملک کے دیگر علاقوں سے منقطع کر دیا ہے۔
بعض اطلاعات کے مطابق مکانات پر کارروائی میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
عینی شاہدین نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ٹینکوں نے رستن شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے جب کہ سکیورٹی اہلکاروں نے بھاری ہتھیاروں سے گلیوں میں فائرنگ شروع کی دی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شام میں رواں سال مارچ سے شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایک مصدقہ اطلاع کے مطابق رستن کے باہر قائم ایک چیک پوسٹ پر فوجیوں نے دو شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے جب کہ دیگر اطلاعات کے مطابق ایک بڑی تعداد میں ٹینک کارروائی میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ شام میں غیر ملکی صحافیوں کے داخلے پر پابندی ہے اور اس وجہ سے عینی شاہدین کی معلومات کی تصدیق مشکل ہے۔
شامی حکومت کا اصرار ہے کہ وہ’مسلح دہشت گرد گروہوں‘ کا تعاقب کر رہے ہیں۔‘
ہمسایہ ملک لبنان میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میئور کا کہنا ہے کہ رستن اور تلبیسہ میں مارچ سے مظاہرے جاری ہیں اور حکومت کے سخت ردعمل کے باوجود یہ احتجاج جاری ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…